سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(119) کسی معین شخص کو ’ اے اطمینان پانے والی روح ‘ نہیں کہنا چاہیے

  • 898
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 669

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو بعض لوگ یہ آیات پڑھتے ہیں: ﴿يـأَيَّتُهَا النَّفسُ المُطمَئِنَّةُ ﴿٢٧ ارجِعى إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرضِيَّةً ﴿٢٨... سورة الفجر ’’اے اطمینان پانے والی روح! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کرچل، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔‘‘ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ان آیات کا کسی مخصوص شخص پر اطلاق جائز نہیں کیونکہ اس طرح یہ گویا اس بات کی شہادت ہوگی کہ وفات  پانے والا شخص قطعی طور پر ان مخصوص لوگوں کی صف میں شامل ہے جن سے بوقت وفات یہ کہا جاتا ہے گویاکہ یہ اس بات کی گواہی اور تزکیہ ہے کہ وفات پانے والا یہ شخص قرآن کریم میں مذکور کی لوگوں کی صنف میں بالجزم شامل ہے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائدکےمسائل:صفحہ189

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ