سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ساتویں دن لڑکے اور لڑکی دونوں کے بال کاٹنا

  • 8970
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-24
  • مشاہدات : 941

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

١-(من كان لله كان الله له) کیا یہ حدیث ہے۔وضاحت کردیں۔؟

٢-کیا پیدائش کے ساتویں دن صرف لڑکے کے بال کٹوائے جاتے ہیں؟ اور لڑکی کے نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔(من كان لله كان الله له) یہ حدیث نہیں بلکہ بعض اہل علم اور حکماء کا مقولہ ہے،جسے امام غزالی نے اپنی کتاب احیاء علوم الدین (4/274)میں نقل کیا ہے۔

2۔نہیں ایسا نہیں ہے ،بلکہ یہ بال لڑکے اور لڑکی دونوں کے کاٹے جائیں گے،کیونکہ کسی روایت میں اس کی تفریق موجود نہیں ہے ،بلکہ مطلق الفاظ استعمال ہوئے ہیں ،جو لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے عام ہیں۔

سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :

«کُلُّ غُلاَمٍ رَهِیْنَةٌ بِعَقِیْقَةِ، تُذْبَحُ عَنْهُ یَوْمَ سَابِعِهِ وَیُحْلَقُ وَ یُسَمَّی»(ابو داود:2838)

"ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے ( عقیقہ) ذبح کیا جائے، اُس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔"

سلمان بن عامر ضبیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :
«مَعَ الْغُلاَمِ عَقِیْقَةٌ فَأَهْرِیقُوَا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِیْطُوْا عَنْهُ الْأَذَی»(صحیح بخاری: 5471)

"ہر بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، سو اس کی طرف سے خون بہاؤ (عقیقہ کرو) اور اس سے گندگی محو کرو ( یعنی سر کے بال مونڈھ دو)۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ