سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(6) اسوۂ نبوی سے مکمل وابستگی فرقۂ ناجیہ کی شناخت ہے

  • 897
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 833

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فرقہ ناجیہ کی نمایاں خصوصیات کیا ہیں اور کیا ان خصوصیات میں کمی سے انسان فرقہ ناجیہ سے خارج ہو جاتا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فرقہ ناجیہ کی نمایاں خصوصیات کیا ہیں اور کیا ان خصوصیات میں کمی سے انسان فرقہ ناجیہ سے خارج ہو جاتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

فرقہ ناجیہ کی نمایاں خصوصیات میں سب سے اہم چیز عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاملات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے ساتھ وابستگی اختیار کرنا ہے۔ ان چاروں امور میں فرقہ ناجیہ کا عمل دوسرے لوگوں سے نمایاں ہے۔ مثلاً عقیدہ کے حوالہ سے آپ دیکھیں گے کہ توحید خالص کے باب میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت، ربوبیت اور اسماء وصفات کے اعتبار سے ان کا وہی عقیدہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول( صلی اللہ علیہ وسلم) سے ثابت ہے۔

عبادات کے اعتبار سے آپ دیکھیں گے کہ عبادات کی تمام اقسام، صفات، ان کی مقدار، اوقات، مقامات اور اسباب وغیرہ کے لحاظ سے ان کی مکمل وابستگی اس طریقے کے مطابق ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین میں بدعات کو ایجاد نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حد درجہ ادب کو اختیار کر رکھا ہے اور عبادات میں کسی ایسی چیز کو داخل کر کے، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہ دیا ہو، یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے تجاوز نہیں کرتے۔

اخلاق کے اعتبار سے بھی آپ ملاحظہ کریں گے کہ حسن اخلاق میں یہ دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں امتیازی شان رکھتے ہیں، مثلاً: مسلمانوں کی ہمدردی وخیرخواہی، انبساط قلب وانشراح صدر، خندہ پیشانی ونرم خوئی، شیریں کلامی، جو دوسخا، شجاعت و بسالت یہ اور اس نوع کے دیگر مکارم و محاسن اخلاق میں ان کے قدم دوسرے لوگوں سے بہت آگے بڑھے ہوئے ہیں۔

معاملات میں بھی آپ دیکھیں گے کہ یہ لوگوں کے ساتھ راست بازی کا معاملہ کرتے ہیں اور خریدو فروخت کے وقت ہر بات کو بیان کر دیتے ہیں، جیسا کہ اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

«اَلْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَاِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِکَ لَهُمَا فِی بَيْعِهِمَا، وَاِنْ کَذَبَا وَکَتَمَا مُحِقَتْ بَرَکَةُ بَيْعِهِمَا» صحيح البخاری، البيوع، باب اذا بين البيعان ولم يکتما ونصحا، ح:2079 وصحيح مسلم، البيوع، باب الصدق فی البيع والبيان، ح:1532

’’خریدو فروخت کرنے والوں میں سے دونوں کو اس وقت تک اختیار ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، اگر دونوں سچ بولیں اور (عیب کو) بیان کر دیں تو ان کی بیع میں برکت پیدا کر دی جائے گی اور اگر دونوں جھوٹ بولیں اور (عیب کو) چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت کو ختم کر دیا جائے گا۔‘‘

ان خصوصیات میں کمی انسان کو فرقہ ناجیہ سے خارج نہیں کرتی، البتہ لوگوں کے درجات ان کے اعمال کے مطابق ہوں گے۔ ہاں! توحید میں کمی، مثلاً: اخلاص میں کوتاہی یا بدعت کا ارتکاب انسان کو بسا اوقات فرقہ ناجیہ سے خارج کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔

اخلاق ومعاملات میں کمی سے انسان فرقہ ناجیہ سے خارج نہیں ہوتا، البتہ اس سے انسان کے مقام ومرتبہ میں ضرور کمی ہو جاتی ہے۔ اخلاق کے مسئلے میں کچھ تفصیل سے بیان کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اخلاقیات کے سلسلہ میں سب سے اہم بات اجتماعیت اور اس دین حق کو قائم کرنا ہے جس کے قائم کرنے کی اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل آیت کریمہ میں ہمیں نصیحت فرمائی ہے:

﴿شَرَعَ لَكُم مِنَ الدّينِ ما وَصّى بِهِ نوحًا وَالَّذى أَوحَينا إِلَيكَ وَما وَصَّينا بِهِ إِبرهيمَ وَموسى وَعيسى أَن أَقيمُوا الدّينَ وَلا تَتَفَرَّقوا فيهِ...﴿١٣﴾... سورة الشورى

’’اس نے تمہارے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس کے اختیار کرنے کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد!) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے دین میں پھوٹ ڈالی اور وہ فرقے فرقے ہوگئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بری الذمہ ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الَّذينَ فَرَّقوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا لَستَ مِنهُم فى شَىءٍ...﴿١٥٩﴾... سورة الأنعام

’’جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں۔‘‘

اتفاق واتحاد اور دلوں کی الفت ومحبت فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت کا نمایاں وصف ہے۔ اگر ان میں اجتہادی امور کی بنیادپر میں باہم اختلاف واقع ہو جائے تو یہ لو گ اجتہاد کی بنیادپر اختلاف کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے سے کینہ حسد، عداوت یا بغض نہیں رکھتے بلکہ اجتہادی اختلاف کے باوجود وہ ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں حتیٰ کہ وہ ایسے امام کے پیچھے بھی نماز پڑھ لیتے ہیں جو اجتہادی صورت میں ان کے نزدیک بے وضو گرداناجاتا ہو مگر بربنائے اجتہادوہ امام اپنے آپ کو باوضو سمجھتا ہے، مثلاً: ان میں سے اگر کوئی شخص کسی ایسے امام کے پیچھے نماز اداکرے جس نے اونٹ کا گوشت کھایا ہو اور اس امام کی رائے میں اونٹ کا گوشت کھانا ناقض وضو نہ ہو جبکہ مقتدی کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانا ناقض وضو ہو، تو اس امام کے پیچھے اس کی نماز صحیح ہوگی۔ البتہ انفرادی صورت میں اس کی اپنی نماز صحیح نہیں ہوگی کیونکہ اس کا خیال ہے کہ وہ اپنے موقف میں صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے اجتہادکی بنیادپر باوضو نہیں ہے یہ اختلاف ایک ایسے امر میں ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، اس لئے اس اختلاف کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ ان دونوں اختلاف کرنے والوں میں سے ہر ایک نے اس دلیل کی اتباع کی ہے جس کا اتباع کرنا واجب تھا اور اس سے اعراض کرنا ان کے لئے جائز نہ تھا اور ان کا خیال یہ ہے کہ ان کا کوئی بھائی اگر کسی عمل میں اتباع دلیل کی وجہ سے ان کی مخالفت کرے تو حقیقت میں وہ ان کی موافقت ہی کرتا ہے کیونکہ یہ تو خود اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ دلیل کی اتباع کی جائے، خواہ وہ کہیں سے بھی لی گئی ہو، لہٰذا اگر وہ کسی دلیل کی موافقت کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتا ہے تو درحقیقت اس کو موافقت کرناہی گردانا جائے گا کیونکہ وہ اس طرف جا رہا ہے جس کی طرف اس کے بھائی بندے دعوت دے رہے ہیں اور جس کی طرف  اس کے بھائی رہنمائی کافریضہ انجام دے رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے دامن سے وابستگی اختیار کی جائے۔ بہت سے اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں کہ اس طرح کے امور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  میں بھی اختلاف رونما ہوگیا تھا حتیٰ کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بھی ایسا ہوا مگر آپ نے ان میں سے کسی پر سختی نہ کی، مثلاً: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوئہ احزاب سے لوٹے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام  آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بنو قریظہ کی سرکوبی کے لیے نکلنے کو کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو اس مہم کے لیے روانہ کرتے ہوئے فرمایا:

«لَا يُصَلِّيَنَّ اَحَدٌ الْعَصْرَ اِلاَّ فِی بَنِی قُرَيْظَةَ» صحيح البخاری، کتاب الخوف، باب صلاة الطالب والمطلوب… ح:946 وصحيح مسلم، الجهاد والسير، باب المبادرة بالغزو… ح: 1770 بلفظ: لَا يُصَلِّيَنَّ اَحَدٌ الظُّهْرَ۔

’’ہر شخص نماز عصر بنی قریظہ (کے محلے) میں پہنچ کر ہی ادا کرے۔‘‘

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  مدینہ منورہ سے نکل کر بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ ابھی راستے ہی میں تھے کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا، کچھ لوگوں نے نماز عصر کو مؤخر کر دیا اور انہوں نے اسے بنو قریظہ ہی میں وقت ختم ہو جانے کے بعد ادا کیا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’ہر شخص نماز عصر بنو قریظہ ہی میں ادا کرے۔‘‘ اور کچھ لوگوں نے نماز کو راستے میں وقت پر ادا کر لیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم جلدی پہنچیں توایسا کریں۔ آپ کے حکم دینے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ ہم نماز میں اس قدر تاخیر کر دیں کہ وقت ختم ہو جائے… اور انہی کا موقف درست تھا… لیکن اس کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کسی گروہ پر بھی سختی نہ فرمائی اور نہ ان دونوں گروہوں میں کوئی باہمی عداوت یا اس نص کے فہم میں اختلاف کی وجہ سے کوئی بغض پیدا ہوا، اس لیے میری رائے میں سنت نبوی سے انتساب رکھنے والے تمام مسلمانوں کے لیے یہ واجب ہے کہ وہ ایک امت بن جائیں، ان میں فرقہ پرستی نہیں ہونی چاہیے بایں طور کہ کچھ لوگ ایک فرقے کی طرف نسبت اختیار کریں اور کچھ لوگ دوسرے اور تیسرے فرقے کی طرف اور پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے حتیٰ کہ زبانیں ایک دوسرے پر تیر برساناشروع کردیں۔ محض ایک اجتہادی اختلاف کی وجہ سے نوبت بغض اور عداوت تک پہنچ جائے۔ یہاں اس طرح کے کسی خاص گروہ کا نام لینے کی ضرورت نہیں، ہر عقل مند انسان اسے خود سمجھ لے گا اور اس کے سامنے معاملہ بالکل واضح ہو جائے گا۔

میری رائے میں اہل سنت والجماعت کے لیے واجب ہے کہ وہ متحد ہو جائیں، خواہ فہم نصوص کے اختلاف کی وجہ سے ان میں اختلاف ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس معاملہ میں بحمدللہ کافی گنجائش ہے اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دلوں میں الفت ومحبت موجزن ہو اور آپس میں اتحاد واتفاق کا معاملہ روارکھا جائے۔ ا

 اس بات میں قطعاکوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں دشمنان اسلام کی خواہش اور تمنا ہے کہ مسلمان انتشار وخلفشار میں مبتلا ہو جائیں، کھلے دشمن بھی یہی چاہتے ہیں اور ان دشمنوں کی بھی یہی خواہش ہے جو بظاہر مسلمانوں یا اسلام کے ساتھ دوستی کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ دوست نہیں ہیں، لہٰذا ہم پر یہ فریضہ عائدہوتا ہے کہ ہم بھی اپنے آپ کو اس صفت کے ساتھ متصف کریں جو فرقہ ناجیہ کی نمایاں اور ممتاز صفت ہے، یعنی ہم سب ایک کلمہ پر متحد ومتفق ہو جائیں۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ35

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ