السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نیت اور تلبیہ سے پہلے احرام کو خوشبو لگانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
احرام کی چادروں کو خوشبو نہیں لگانی چاہیے، سنت یہ ہے کہ خوشبو بدل مثلا سر، داڑھی، بغلوں اور جسم کے باقی حصے پر لگائی جائے۔ احرام کے وقت لباس کو خوشبو نہ لگائی جائے کیونکہ احرام باندھنے والوں کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حک ہے:
(لا يلبسوا من الثياب مسه زعفران ولا الورس) (صحيح البخاري‘ الحج‘ باب ما لا يلبس المحرم من الثياب ‘ ح: 1542 وصحيح مسلم‘ الحج‘ باب ما يباح للمحرم بحج او عمرة...الخ‘ ح: 1177 ومسند احمد: 2/59)
"تم کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جسے زعفران اور ورس لگا ہو۔"[1]
سنت یہ ہے کہ خوشبو صرف جسم پر لگائی جائے (احرام پر نہ لگائی جائے) اور اگر کسی نے احرام کو معطر کر لیا ہو تو اسے دھوئے بغیر نہ پہنے یا کوئی دوسرا احرام پہن لے۔
[1] ورس، ایک قسم کی گھاس تل کی مانند ہے، جس سے رنگائی کا کام لیتے ہیں۔
هذا ما عندي والله اعلم بالصواب