سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جو شخص احرام نہ پہن سکتا ہو

  • 8968
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-24
  • مشاہدات : 244

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص رمضان میں عمرہ ادا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ احرام نہیں پہن سکتا کیونکہ وہ معذور ہے اور اس کے ہاتھ شل ہیں تو کیا وہ اپنے معمول کے کپڑوں میں عمرہ ادا کر سکتا ہے؟ اور کیا (احرام نہ پہن سکنے کی وجہ سے) اسے کفارہ ادا کرنا ہو گا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص رمضان میں عمرہ ادا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ احرام نہیں پہن سکتا کیونکہ وہ معذور ہے اور اس کے ہاتھ شل ہیں تو کیا وہ اپنے معمول کے کپڑوں میں عمرہ ادا کر سکتا ہے؟ اور کیا (احرام نہ پہن سکنے کی وجہ سے) اسے کفارہ ادا کرنا ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں انسان جب لباس احرام نہ پہن سکتا ہو تو وہ کوئی دوسرا مناسب اور جائز لباس پہن لے اور اس صورت میں اہل علم کے نزدیک اس کے لیے یہ لازم ہے کہ ایک بکری ذبح کر کے فقراء میں تقسیم کر دے، یا نصف صاع فی مسکین کے حساب سے چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا تین روزے رکھے، سر منڈانے پر قیاس کرتے ہوئے اہل علم کا اس مسئلہ میں یہی قول ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا تَحلِقوا رُ‌ءوسَكُم حَتّىٰ يَبلُغَ الهَدىُ مَحِلَّهُ ۚ فَمَن كانَ مِنكُم مَر‌يضًا أَو بِهِ أَذًى مِن رَ‌أسِهِ فَفِديَةٌ مِن صِيامٍ أَو صَدَقَةٍ أَو نُسُكٍ...١٩٦﴾... سورة البقرة

"اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو اگر وہ سر منڈالے تو اس کے بدلے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔"

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ اس صورت میں تین روزے رکھنا ہے اور صدقہ چھ مسکیوں کو نصف صاع فی کس کے حساب سے کھانا کھلانا ہے اور قربانی ایک بکری ذبح کرنا ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ