سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(396) جس نے پہلے افراد کی نیت کی پھر۔۔۔

  • 8943
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-24
  • مشاہدات : 538

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جس نے حج مفرد کی نیت کی تھی لیکن مکہ مکرمہ میں پہنچ کر اس نے اسے تمتع میں بدل دیا اور عمرہ ادا کر کے حلال ہو گیا تو اس کے لیے کیا فدیہ ہو گا؟ وہ حج کا اھرام کب اور کہاں سے باندھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

افضل یہی ہے کہ جب کوئی شخص حج یا حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھ کر آئے تو وہ اس کو عمرہ کا احرام بنا دے۔ صحابہ کرام جب مکہ میں آئےتو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسی طرح کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ ان میں سے بعض قارن تھے اور بعض مفرد اور ان کے پاس ہدی بھی نہ  تھی تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اس احرام کو عمرہ کے لیے خاص کر دو، چانچہ انہوں نے طواف و سعی کی اور بال کتروا کر حلال ہو گئے۔ ہاں البتہ جس کے پاس ہدی کا جانور ہو تو اسے بدستور حالت احرام میں رہنا چاہیے حتیٰ کہ وپنے حج قران یا مفرد سے عید کے دن حلال ہو جائے۔ مقصود یہ ہے کہ جو شخص مکہ میں صرف حج یا حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھ کر آئے اور اس کے ساتھ ہدی (قربانی) کا جانور بھی نہ ہو تو پھر سنت یہ ہے کہ وہ حج کے احرام کو فسخ کر کے صرف عمرہ کے لیے خاص کر دے اور طواف و سعی کرے اور بالوں کو کتروا کر حلال ہو جائے اور پھر حج کے وقت، حج کا احرام باندھے اس طرح وہ متمتع ہو جائے گا، لہذا اسے دم تمتع بھی ادا کرنا ہو گا۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

کتاب المناسک: ج 2 صفحہ 285

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ