سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(315) نفلی روزے شوہر کی اجازت سے

  • 8859
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-21
  • مشاہدات : 999

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 (شرعا) مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنی بیوی کو نفلی روزے مثلا شوال کے چھ روزے رکھنے سے منع کر دوں؟ اگر منع کروں تو مجھے گناہ تو نہ ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث میں اس بات کی ممانعت آئی ہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفل روزے رکھے کیونکہ شوہر کو اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اگر کسی عورت نے شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھا اور شوہر کو مباشرت کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کے لیے اس کے روزے کو توڑ دینا جائز ے۔ اگر شوہر کو کوئی ایسی ضرورت درپیش نہ ہو تو پھر اس کے لیے یہ مکروہ ہے کہ اپنی بیوی کو روزے سے منع کرے بشرطیکہ روزہ بیوی کے لیے نقصان دہ نہ ہو یا روزے سے بچوں کی تربیت اور رضاعت میں کوئی فرق نہ آتا ہو۔ ان مسائل میں شوال کے چھ روزوں اور دیگر نفلی روزوں کا حکم یکساں ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ