سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(311) شوال کے بعد چھ روزوں کی قضا

  • 8855
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-21
  • مشاہدات : 602

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت ہر سال شوال کے چھ روزے رکھا کرتی تھی لیکن ایک سال رمضان کی ابتدا ہی میں اس کے بچے کی ولادت ہوئی اور پھر جب وہ رمضان کے بعد پاک ہوئی تو اس نے رمضان کے روزوں کی قضا شروع کر دی، تو کیا رمضآن کے روزوں کی قضا کے بعد شوال کے چھ روزوں کی قضا لازم ہے، خواہ یہ شوال کا مہینہ نہ بھی ہو یا صرف رمضان ہی کے روزوں کی قضا لازم ہے؟ کیا شوال کے یہ چھ روزے ہمیشہ رکھنا لازم ہیں یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شوال کے یہ چھ روزے سنت ہیں، فرض نہیں کیونکہ نبی کریم نے فرمایا ہے:

(من صام رمضان ثم اتبعه ستا من شوال فذلك صيام الدهر) (صحيح مسلم‘ الصيام‘ باب استحباب صوم ستة ايام...الخ‘ ح: 1164 و جامع الترمذي‘ الصوم‘ باب ما جاء في صيام ستة...الخ‘ح: 759 واللفظ له)

"جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لیے تو وہ اس طرح ہے جیسے سال بھر کے روزے رکھے ہوں۔"

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ روزے مسلسل رکھ لیے جائیں یا متفرق کیونکہ حدیث کے الفاظ مطلق ہیں ہاں البتہ انہیں جلد رکھنا افضل ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَعَجِلتُ إِلَيكَ رَ‌بِّ لِتَر‌ضىٰ ﴿٨٤﴾... سورة طه

"اور اے میرے پرورداگر! میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لیے کی کہ تو خوش ہو۔"

علاوہ ازیں دیگر بہت سی آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ بھی اس بات پر دلالت کناں ہیں کہ نیکی کے کاموں میں مسابقت و مسارعت افضل ہے۔ ان روزوں کو ہمیشہ رکھنا واجب تو نہیں ہے ہاں البتہ افضل ضرور ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(احب العمل الي الله ماداوم عليه صاهبه‘ وان قل) (صحيح البخاري‘ الايمان‘ باب احب الدين...الخ‘ ح: 43 وصحيح مسلم‘ الصيام‘ باب صيام النبي صلي الله عليه وسلم في غير رمضان...الخ‘ ح: 782 (قبل الحديث: 1157) واللفظ له)

"اللہ تعالیٰ کو وہ عمل بہت پسند ہے جسے عمل کرنے والا ہمیشہ سر انجام دے خواہ وہ عمل کم ہی ہو۔"

شوال کے ختم ہونے کے بعد ان روزوں کی قضا نہیں ہے کیونکہ یہ روزے سنت ہیں ارو اب ان کا وقت ختم ہو گیا ہے خواہ وقت کسی عذر کی وجہ سے ختم ہوا یا بغیر عذر کے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ