سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(310) شوال کے روزوں کے لیے یہ شرط نہیں کہ مسلسل رکھے جائیں

  • 8854
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-21
  • مشاہدات : 620

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا شوال کے چھ روزوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ مسلسل رکھے جائیں یا پورے مہینے میں الگ الگ رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شوال کے چھ روزے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہیں، ان کو مسلسل اور متفرق دونوں طرح رکھنا جائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان روزوں کا مطلقا ذکر فرمایا ہے اور اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ انہیں مسلسل رکھا جائے یا الگ الگ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ کا فرمان ہے:

(من صام رمضان ثم اتبعه ستا من شوال فذلك صيام الدهر) (صحيح مسلم‘ الصيام‘ باب استحباب صوم ستة ايام...الخ‘ ح: 1164 و جامع الترمذي‘ الصوم‘ باب ما جاء في صيام ستة...الخ‘ح: 759 واللفظ له)

"جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ اس طرح ہے جیسے سال بھر کے روزے رکھے ہوں۔"

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ