سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(266) حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین جب رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں

  • 8810
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-21
  • مشاہدات : 1033

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین جب رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں تو انہیں کیا کرنا چاہیے؟ اور اگر وہ چاولوں کی صورت میں فدیہ دینا چاہیں تو کتنا فدیہ دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ کسی عذر کے بغیر ایام رمضان کے روزے چھوڑیں اور اگر کسی عذر کی وجہ اے انہیں رمضان کے روزے چھوڑنا پڑیں تو ان دنوں کی قضا لازم ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مریض کے بارے میں فرمایا ہے:

﴿فَمَن كانَ مِنكُم مَر‌يضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ‌ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ‌...١٨٤﴾... سورة البقرة

"پس سو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرے۔"

اور یہ دونوں قسم کی عورتیں مریض کے حکم میں ہیں اور اگر ان کا عذر یہ ہو کہ وہ روزے کی وجہ سے بچے کی صحت کے بارے میں خائف ہوں تو تو پھر قضا کے ساتھ ساتھ ان پر فدیہ بھی لازم ہے، فدیہ یہ ہے کہ ہر روز ایک مسکین کو گندم یا چاول یا کھجور یا جو لوگوں کی خوراک ہو، سو وہ دی جائے۔ بعض علماء کے بقول حاملہ اور مرضعہ پر ہر حال میں صرف قضا ہی لازم ہے کیونکہ وجوب فدیہ کی کتاب و سنت سے کوئی دلیل نہیں ہے اور اصول یہ ہے کہ جب تک وجوب کی دلیل نہ ہو اس وقت تک آدمی بری الذمہ ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے اور یہی مذہن قوی ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ