سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(9) حدیث جبریل اور حدیث عبدالقیس میں تطبیق کی صورت کیا ہے؟

  • 881
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 1434

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حدیث جبرئیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے:

«اَ لْاِيْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ، وَمَلَائِکَتِهِ، وَکُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» صحيح البخاری، الایمان، باب سوال جبرئیل النبیﷺ عن الایمان والاسلام والاحسان، ح: ۵۰ ومسلم، الایمان، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان… ح:۸۔

’’(ایمان یہ ہے) کہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان ویقین رکھو۔‘‘

اور حدیث وفد عبدالقیس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے:

«بِشَهَادَةِ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لَا شَرِيْکَ لَه، وَاِقَامِ الصَّلَاةِ، وَاِيْتَاءِ الزَّکَاةِ، وَاَدَاءِ الْخُمُسِ مِنَ الْغَنِيْمَةِ»صحيح البخاری، الایمان، باب اداء الخمس من الایمان، ح: ۵۳ وصحیح مسلم، الایمان، باب الامر بالایمان بالله تعالی ورسولهﷺ… ح:۱۷۔

’’ایمان یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور مال غنیمت میں سے خمس ادا کرو۔‘‘

ان دونوں حدیثوں میں تطبیق کی کیا صورت ہوگی؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حدیث جبرئیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے:

«اَ لْاِيْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ، وَمَلَائِکَتِهِ، وَکُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» صحيح البخاری، الایمان، باب سوال جبرئیل النبیﷺ عن الایمان والاسلام والاحسان، ح: ۵۰ ومسلم، الایمان، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان… ح:۸۔

’’(ایمان یہ ہے) کہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان ویقین رکھو۔‘‘

اور حدیث وفد عبدالقیس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے:

«بِشَهَادَةِ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لَا شَرِيْکَ لَه، وَاِقَامِ الصَّلَاةِ، وَاِيْتَاءِ الزَّکَاةِ، وَاَدَاءِ الْخُمُسِ مِنَ الْغَنِيْمَةِ»صحيح البخاری، الایمان، باب اداء الخمس من الایمان، ح: ۵۳ وصحیح مسلم، الایمان، باب الامر بالایمان بالله تعالی ورسولهﷺ… ح:۱۷۔

’’ایمان یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور مال غنیمت میں سے خمس ادا کرو۔‘‘

ان دونوں حدیثوں میں تطبیق کی کیا صورت ہوگی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اس سوال کے جواب سے قبل میں یہ بات کہنا پسند کروں گا کہ کتاب وسنت میں قطعاً کوئی تعارض نہیں ہے، نہ تو قرآن مجید کا کوئی مقام کسی دوسرے مقام سے متعارض ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت صحیحہ ہی میں کوئی تعارض ہے۔ قرآن وسنت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو امر واقع کے خلاف ہو کیونکہ امر واقع حق ہے اور کتاب وسنت بھی حق ہے، لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ حق میں تناقض ہو، اس قاعدے کو سمجھ لینے سے بہت سے اشکالات دور ہو جاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿َأَفَلا يَتَدَبَّرونَ القُرءانَ وَلَو كانَ مِن عِندِ غَيرِ اللَّهِ لَوَجَدوا فيهِ اختِلـفًا كَثيرًا﴿٨٢﴾... سورة النساء

’’بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔‘‘

جب قرآن مجید میں کوئی اختلاف نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بھی کوئی اختلاف نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ایک حدیث میں ایمان کی کوئی تعریف بیان فرمائی ہے اور دوسری حدیث میں کوئی دوسرااندازبیان بطور تعریف اختیارکیا ہے، جو آپ کی نظر میں پہلی تعریف کے خلاف ہے، لیکن  حقیقت  میں اگر آپ ان دونوں تعریفوں پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حدیث جبرئیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو درج ذیل تین اقسام میں تقسیم فرمایا ہے:

(۱)اسلام                  (۲)ایمان    اور(۳)احسان

حدیث وفد عبدالقیس میں آپ نے صرف ایک ہی قسم یعنی اسلام کو بیان فرمایا ہے اور جب اسلام کا علی الاطلاق ذکر ہو تو اس میں ایمان بھی داخل ہوتا ہے کیونکہ شعائر اسلام کو ایک مومن ہی قائم کر سکتا ہے۔ جب اکیلے اسلام کا ذکر ہو تو اس ایمان اس کے ضمن خودبخود شامل ہواکرتا ہے اور جب تنہا ایمان کا ذکر ہو تو اس میں اسلام بھی داخل ہوتا ہے اور جب اسلام وایمان دونوں کا ذکر ہوتو اس صورت میں ایمان کا تعلق دلوں سے اور اسلام کا تعلق جسمانی اعضاء سے ہوتا ہے۔ ایک طالب علم کے لیے یہ بہت اہم نکتہ ہے، چنانچہ جب اکیلے اسلام کا ذکر ہو تو اس میں ایمان بھی داخل ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلـمُ...﴿١٩﴾... سورة آل عمران

’’دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔‘‘

اور معلوم ہے کہ دین اسلام، عقیدہ، ایمان اور احکام شریعت کے مجموعے کا نام ہے اور جب اکیلے ایمان کا ذکر ہو تو اس میں اسلام بھی داخل ہوتا ہے اور جب دونوں اکٹھے مذکور ہوں تو ایمان کا تعلق دلوں سے اور اسلام کا تعلق جسمانی اعضا سے ہوتا ہے، اسی لیے بعض سلف نے کہا ہے کہ ’’اسلام علانیہ ہے اور ایمان مخفی‘‘ کیونکہ ایمان دل میں جاگزیں ہوتاہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک منافق بظاہر نماز پڑھتا، صدقہ وخیرات کرتا اور روزے رکھتا ہے تو ایسا شخص ظاہر ی طور پر تو مسلمان ہے لیکن وہ مومن نہیں ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَقولُ ءامَنّا بِاللَّهِ وَبِاليَومِ الءاخِرِ وَما هُم بِمُؤمِنينَ ﴿٨﴾... سورة البقرة

’’اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ42

 

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ