سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(261) رمضان میں مانع حیض گولیوں کا استعمال

  • 8805
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-21
  • مشاہدات : 1094

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض عورتیں رمضان میں مانع حیض گولیاں استعمال کرتی ہیں تاکہ انہیں رمضان کے بعد روزوں کی قضا نہ دینا پڑے۔ سوال یہ ہے کیا ان گولیوں کا استعمال جائز ہے؟ اور کیا اس سلسلہ میں کچھ قیود بھی ہیں، جن کی عورتوں کے لیے پابندی لازم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مسئلہ میں میری رائے یہ ہے کہ عورت کو مانع حیض گولیاں استعمال نہیں کرنا چاہئیں بلکہ اسے ایسی حالت میں رہنا چاہیئے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اور دیگر تمام بنات آدم کے لیے مقرر فرما رکھی ہے۔ ماہواری کے اس نظام میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکمت رکھی ہے۔ یہ حکمت عورت کی طبیعت کے مناسب ہے۔ لہذا عورت اگر اپنی ماہواری کی عادت روکے گی تو یقینا اس کا ایک رد عمل بھی ہو گا جو عورت کی جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(لا ضرر ولا ضرار) (سنن ابن ماجه‘ الاحكام‘ باب من بني في حقه ما يضر بجاره‘ ح: 2340)

"نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔"

جیسا کہ اطبا نے ذکر کیا ہے، ان گولیوں کا استعمال رحم کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، لہذا میری رائے یہ ہے کہ خواتین کو یہ گولیاں استعمال نہیں کرنا چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام اور اس میں موجود حکمت و مصلحت پر ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔ عورت کو جب حیض شروع ہو جائے تو اسے نماز اور روزہ سے رک جانا چاہیے، جب پاک ہو جائے تو پھر نماز اور روزہ شروع کر دے اور جب رمضان ختم ہو جائے تو اپنے ان روزوں کی قضا دے جو حیض کی وجہ سے نہیں رکھ سکی تھی۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ