سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(24) آیات و اذکار لکھ کے گلے میں لٹکانا یا ہاتھ پر باندھنا منع ہے

  • 878
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 1689

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جھاڑ پھونک اوردم کرنے کے بارے میں شریعت کی رو سے کیا حکم ہے؟ اور آیات لکھ کر مریض کے گلے میں لٹکا نے کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جھاڑ پھونک اوردم کرنے کے بارے میں شریعت کی رو سے کیا حکم ہے؟ اور آیات لکھ کر مریض کے گلے میں لٹکا نے کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جادو یا دیگر بیماریوں میں مبتلا انسان کو قرآن کریم کی آیات یا مباح دعاؤں کے ساتھ دم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو دم کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جن دعاؤں کا سہارا لے کر دم کیا کرتے ان میں منجملہ ایک دعا یہ بھی ہوتی تھی:

«رَبُّنَا اللّٰهُ الَّذِی فِی السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ أَمْرُکَ فِی السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ کَمَا رَحْمَتُکَ فِی السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ فِی الْأَرْضِ َ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِکَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِکَ عَلَی َهذَا الْوَجَعِ»سنن ابی داود، الطب، باب کیف الرقی، ح: ۳۸۹۲۔

’’ہمارا رب اللہ ہے جو آسمانوں میں ہے، تیرا نام پاک ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین میں ہے، تیری رحمت جس طرح آسمان میں ہے اسی طرح زمین میں بھی اسے عام کر دے، لہٰذا تو اپنی شفا (کے خزانے) سے شفا اور اپنی رحمت (کے خزانے) سے اس درد پر رحمت نازل فرما دے۔‘‘

آپ جب یہ دم فرماتے تو مریض صحت یاب ہو جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں مسنون دعاؤں میں سے ایک مشروع دعا یہ بھی ہے:

«بِسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ مِنْ کلُ داءٍ يُؤْذِيْکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰهُ يَشْفِيْکَ، بِسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ»صحیح مسلم، السلام، باب الطب، والمرض والرقی، ح: ۲۱۸۶۔

’’اللہ تعالیٰ کے پاک نام کے ساتھ میں تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو تجھے تکلیف دے اور ہر نفس کے شراور فتنہ سے یا انسان کے حسد کرنے والی نظربد کے شر سے اللہ تجھے شفا دے، میں اللہ کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتا اور جھاڑتا ہوں۔‘‘

دم کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے جسم میں درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر یہ پڑھے:

«أَعُوذُ بِاللّٰهِ وَعزتهِ مِنْ شَرِّمَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ»صحیح مسلم، السلام، باب استحباب وضع یدہ علی موضع الالم مع الدعاء، ح: ۲۲۰۲۔

’’میں اللہ تعالیٰ اور اس کی عزت وشان وشوکت کی پناہ پکڑتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو مجھے ہو رہی ہے اور جس سے میں ڈررہا ہوں یاخوف زدہ ہوں۔‘‘

علاوہ ازیں اہل علم نے اس سلسلہ میں وارد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی کئی احادیث ذکر کی ہیں۔

جہاں تک آیات واذکار کے لکھ کر لٹکانے کا حکم ہے، تو اس بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔

بعض نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اسے ممنوع قرار دیا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ ممنوع ہے، کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور ثابت یہ ہے کہ پڑھ کر مریض کو دم کیا جائے۔ آیات یا دعاؤں کا لکھ کر مریض کے گلے میں لٹکانا یا اس کے ہاتھ پر باندھنا یا اس کے تکیے کے نیچے رکھنا، یہ ان جیسی چیزوںکا راجح قول کے مطابق، امور ممنوعہ میں شمارہوتا ہے کیونکہ ان ثبوت نہیں ہے۔ شریعت کی اجازت کے بغیر اگر کوئی شخص کسی امر کو کسی دوسرے امر کا سبب قرار دیتا ہے تو اس کا یہ عمل بھی شرک ہی کی ایک صورت ہے، کیونکہ بایں طورکسی ایسی بات کو سبب قرار دینا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سبب قرار نہیں دیا ہے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ66

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ