سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(219) روزے کی حالت میں ٹوتھ برش کا استعمال؟

  • 8758
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-18
  • مشاہدات : 2248

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا روزہ کی حالت میں پیسٹ کے ساتھ ٹوتھ برش استعمال کرنا جائز ہے؟ ٹوتھ برچ استعمال کرنے سے مسوڑھوں سے تھوڑی سی مقدار میں اگر خون نکل آئے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روزہ کی حالت میں دانتوں کو پانی، مسواک اور ٹوتھ برش وغیرہ سے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے زوال کے بعد مسواک کرنے  کو مکروہ سمجھا ہے، کیونکہ اس سے روزہ دار کے منہ کی بو زائل ہو جاتی ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مسواک کرنا مستحب ہے خواہ دن کا ابتدائی حصہ ہو یا آخری۔ اور اس کے استعمال سے منہ کی وہ بو زائل نہیں ہوتی جسے حدیث میں "خلوف" کہا گیا ہے۔ ہاں البتہ اس سے دانت اور منہ بدبو، بخارات اور کھانے کے ریزوں سے ضرور پاک صاف ہو جاتے ہیں۔ پیسٹ کا استعما؛ بظاہر مکروہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ پیسٹ میں خوشبو اور ذائقہ ہوتا ہے۔ لہذا خدشہ ہے کہ لعاب دہن کے ساتھ ملنے کی وجہ سے آدمی اسے نگل نہ لے، لہذا جسے پیسٹ کے استعمال کی ضرورت ہو تو وہ اسے اذان فجر سے پہلے استعمال کر لے اور اگر وہ دن کو استعمال کر لے اور نگلنے کا کوئی اندیشہ نہ ہو تو پھر (دن کو بھی استعمال کرنے میں) کوئی حرج نہیں۔ اگر بارش یا مسواک کرنے سے تھوڑی سی مقدار میں مسوڑھوں سے خون نک؛ آئے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ