سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(59) عقیدے کا علم اور اس میں پختگی حاصل کرناہر مسلمان کا فرض ہے

  • 875
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 659

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص عقیدے کا خصوصاً مسئلہ تقدیر کا اس لیے مطالعہ نہیں کرنا چاہتا کہ کہیں وہ پھسل نہ جائے تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص عقیدے کا خصوصاً مسئلہ تقدیر کا اس لیے مطالعہ نہیں کرنا چاہتا کہ کہیں وہ پھسل نہ جائے تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

یہ مسئلہ بھی ان اہم مسائل کی طرح ہے جن کی انسان کو دین ودنیا میں ضرورت پیش آتی ہے، اس لئے اس میں بھی گہرے تدبر سے کام لینا چاہیے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے تاکہ حقیقت حال واضح ہو جائے، لہٰذا ان اہم امور و مسائل کے بارے میں انسان کو شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ ہاں وہ مسائل جن کے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے دین میں کوئی خلل نہ آئے اور ان کا معلوم ہونا دینی انحراف کا سبب بن جائے تو ان کی طرف توجہ نہ دینے اور ان سے اہم مسائل پر غور کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن مسئلہ تقدیر دراصل ان اہم مسائل میں سے ہے جنہیں مکمل طور پر سمجھنا بندے کے لیے واجب ہے تاکہ اسے یقین حاصل ہو جائے۔ حقیقت میں اس مسئلے میں بحمداللہ کوئی اشکال بھی نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو عقیدے کے اسباب جو مشکل معلوم ہوتے ہیں تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے، وہ اس لیے کہ ایسے لوگ(کَیْفَ) ’’کیسے‘‘ کے پہلو کو (لَمْ) ’’کیوں‘‘ کے پہلو پر ترجیح دیتے ہیں۔ انسان سے اپنے عمل کے بارے میں دو حروف استفہام (لَمْ) اور (کَیْفَ) ہی کےساتھ سوال کیا جائے گا، یعنی اس سے یہ پوچھا جائے گا کہ تو نے یہ عمل کیوں کیا؟ یہ سوال اخلاص کے بارے میں ہے، اسی طرح اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ تو نے یہ عمل کیسے کیا؟ یہ سوال اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے۔ آج کل اکثر لوگ (کَیْفَ) کے جواب کی تحقیق میں مشغول ہیں اور وہ  (لَمْ) کے جواب کی تحقیق سے غافل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اخلاص کی جانب زیادہ توجہ مبذول نہیں کرتے جب کہ اتباع کے حوالہ سے وہ دقیق امور کی طرف زیادہ توجہ دینے کے خواہش مند ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت ایسے لوگ اس بارے میں اہم ترین پہلو، یعنی عقیدہ واخلاص اور توحید کے پہلو سے غافل ہیں۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ بعض لوگ دنیا کے مسائل میں سے تو بہت چھوٹے جھوٹے مسئلے کے بارے میں بھی پوچھیں گے اس حال میں کہ ان کا دل دنیا ہی کے ساتھ حد درجہ وابستہ ہوگا اور وہ خرید و فروخت، سواری، رہائش اور لباس وغیرہ کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ سے حد درجہ غافل ہوں گے اور بعض لوگ تو اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے پجاری ہیں اور انہیں دنیا کے آگے اور کسی بات کا شعور ہی نہیں ہوتا۔ بعض لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بھی اس بات کا شعور نہیں ہوتا۔ افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ توحید اور عقیدے کے بارے میں صرف عوام ہی کوتاہی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ بعض طالب علم بھی اس مسئلے میں کوتاہی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے نظرآتے ہیں، حالانکہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے ہوبہو عمل کے مانند اس کا معاملہ بھیہے، جیسے شریعت نے عقیدے کے لیے محافظ و پناہ گاہ قراردی ہے، اس کے بغیر محض عقیدے پر زور دینا بھی غلط ہے (اسی طرح صرف عمل پر زور دینا بھی درست نہیں ) ہم ریڈیو سے سنتے اور اخبارات میں یہ پڑھتے رہتے ہیں کہ دین صرف اور صرف محض عقیدے ہی کا نام ہے، اس طرح کی عبارتیں اکثر میڈیا میں سننے میں آتی رہتی ہیں۔ حقیقت میں اس طرح کی باتوں سے ڈر ہے کہ کہیں اس دلیل کے ساتھ کہ عقیدہ تو درست ہے، بعض محرمات کو حلال قرار دئیے جانے کا دروازہ نہ کھل جائے۔ بلکہ ان دو باتوں کو ہمہ وقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ ’’کیوں‘‘ اور ’’کیسے‘‘ کا صحیح جواب دیا جا سکے۔

اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کے لیے علم توحید وعقیدہ کو پڑھنا واجب ہے تاکہ اسے اپنے الٰہ ومعبود جَلَّ وَعَلا کے بارے میں بصیرت حاصل ہو جائے، اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کے بارے میں اسے آگاہی حاصل ہو، اس کے کونی اور شرعی احکام کے بارے میں اسے فہم وادراک تک رسائی حاصل ہو جائے اور اس کی حکمت اور اس کی شرع وخلق کے اسرار پنہاں کی اس پر گتھیاں سلجھتی چلی جائیں، تاکہ نہ خود گمراہ ہو اور نہ کسی دوسرے کو گمراہ کر سکے۔ علم توحید کا، جس ذات پاک سے تعلق ہے وہ اس تعلق کی وجہ سے تمام علوم سے اشرف وافضل علم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم نے اسے  ’’الفقہ الاکبر‘‘ کے نام سے موسوم قرار دیا ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِی الدِّينِ»صحیح البخاری، العلم،باب من یردالله به خیرا، ح:۷۱ وصحیح مسلم، الزکاة، باب النهی عن المسالة، ح:۱۰۳۷۔

’’جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے۔‘‘

علم دین میں داخل ہونے کاصدردروازہ توحید و عقیدے کا علم ہے۔ آدمی کے لیے یہ بھی واجب ہے کہ وہ اس بات کی کنہ تک پہونچنے کی کوشش کرے کہ وہ اس علم کو کس طرح حاصل کر رہا ہے؟ اور کس مصدر وماخذ سے اسے لے رہاہے؟ سب سے پہلے بندہ اس علم کو حاصل کرے جو شکوک وشبہات سے پاک صاف ہو اس کے بعد اس علم پروا رد کیے جانے والے شبہات وبدعات کی طرف منتقل ہو،تا کہ ان کی تردید کر سکے اور انہیں بیان کر سکے اور اس کا مصدر وماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو، پھر کلام صحابہ اور تابعین و تبع تابعین بالترتیب ان علماء کے اقوال ہونے اس کے پیش نظرہونے چاہئیں، جو علم وامانت کے اعتبار سے قابل اعتماد ہیں، خصوصاً شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور آپ کے شاگرد رشید امام ابن قیمرحمہما اللہ ان دونوں پر،پھر تمام مسلمانوں پر اور امت مسلمہ کے تمام اماموں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و رضوان کی برکھا برسے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائدکےمسائل:صفحہ114

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ