سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(208) جو شخص طلوع فجر کے بعد کھائے پئیے اس کا روزہ نہیں

  • 8747
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 1113

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے سوموار کے دن نفلی روزہ کی نیت کی لیکن اذان فجر کے بعد میں نے پی لیا تو کیا یہ روزے مجھے مکمل کرنا چاہیے؟ کیا اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ جو شخص نفلی روزے میں اذان فجر کے بعد کھا پی لے تو کیا اسے یہ روزہ مکمل کرنا چاہیے؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روزے دار کے لیے ضرروی ہے کہ جب اس کا روزہ فرض ہو تو وہ اس وقت کھانے پینے اور دیگر تمام ایسی اشیاء سے رک جائے جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جب اسے یقین ہو جائے کہ فجر طلوع ہو گئی ہے یا وہ کسی ایسے موذن کی اذان سن لے جس کی عادت یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد اذان دیتا ہے یا اذان دینے کے لیے ایسے کیلنڈر کو سامنے رکھتا ہے جس میں طلوع فجر کے اوقات بے حد احتیاط کے ساتھ درج کئے گئے ہوں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ وَكُلوا وَاشرَ‌بوا حَتّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيطُ الأَبيَضُ مِنَ الخَيطِ الأَسوَدِ مِنَ الفَجرِ‌...١٨٧﴾... سورة البقرة

’’اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے۔‘‘

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

(ان بلالا يوذن بليل‘ فكوا واشربوا حتي ينادي ابن ام مكتوم) (صحيح البخاري‘ الاذان‘ باب اذان الاعميٰ اذا...الخ‘ ح: 617)

’’بلال رات کو اذان دیتا ہے تم کھاؤ پیو حتی کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔‘‘

ابن ام مکتوم ایک نا بینا آدمی تھے وہ اس وقت تک اذان نہ دیتے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا کہ صبح ہو گئی ہے، صبح ہو گئی ہے۔

اگر طلوع فجر کے بعد اس نے کچھ کھا پی لیا یا کوئی مفطر چیز استعمال کر لی تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، اسی طرح نفلی روزہ رکھنے والے نے بھی اگر طلوع فجر کے بعد کچھ کھا پی لیا یا کوئی مفطر چیز استعمال کر لی تو اس کا روزہ بھی نہیں ہو گا ہاں البتہ فرض اور نفل روزے میں اس اعتبار سے ضرور فرق ہے کہ نفلی روزہ کی نیت دن کو بھی کی جا سکتی ہے بشرطیکہ طلوع فجر کے بعد سے روزہ کی نیت کرنے تک کچھ کھایا پیا نہ ہو اور نہ کسی اور ایسی چیز کو استعمال کیا ہو جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرےہاں تشریف لائے اور آپ نے فرمایا:

(هل عندكم شئي؟ فقلنا: لا‘ قال: فاني اذن صائم ثم اتانا يوما اخر فقلنا: يا رسول الله! اهدي لنا حيس‘ فقال: ارينه‘ فلقد اصبحت صائما فاكل) (صحيح مسلم‘ الصيام‘ باب جواز صوم النافلة بنية من النهار...الخ‘ ح: 1154)

’’کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا، نہیں! تو آپ نے فرمایا ’’پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں‘‘ ایک دن آپ پھر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس حلوے کا تحفہ آیا ہے تو آپ نے فرمایا مجھے بھی دکھاؤ (آپ نے فرمایا) میں نے تو روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ نے کھا لیا۔‘‘

نیت کے بارے میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے:

(انما الاعمال بالنيات‘ وانما لكل امري ما نوي) (صحيح البخاري‘ بدء الوحي‘ باب كيف كان بدء الوحي...الخ‘ ح: 1 وصحيح مسلم‘ الامارة‘ باب قوله صلي الله عليه وسلم انما الاعمال بالنية...الخ‘ ح: 1907)

’’تمام اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے صرف وہی کچھ ہے جس کی وہ نیت کرے۔‘‘

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

کتاب الصیام : ج 2  صفحہ 175

محدث فتوی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ