سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جادو اور اس کے سیکھنے کا حکم

  • 872
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 1413

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جادو کیا ہے اور اس کے سیکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

علماء نے لکھا ہے کہ لغت میں جادو ہر اس چیز سے عبارت ہے، جس کا سبب لطیف اور خفی ہو اور اس کی تاثیر بھی خفی اور پوشیدہ ہو مزیدبرآں لوگوں کو اس کے بارے میں اطلاع بھی نہ ہو۔ اس معنی کے اعتبار سے سحر کا لفظ نجوم اور کہانت پر بھی مشتمل ہوجاتاہے بلکہ یہ تعریف بیان اور فصاحت کی تاثیر کو بھی شامل ہے، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

«اِنَّ مِنَ الْبِيَانِ لَسِحْرًا»صحیح البخاری، النکاح، باب الخطبة، ح: ۵۱۴۶۔

’’بعض بیان سحر کی سی تاثیر لیے ہوتے ہیں۔‘‘

چنانچہ ہر وہ چیز جو بطریق خفی مؤثر ہو، وہ جادو ہے۔

اصطلاحی طور پر بعض لوگوں نے اس کی تعریف اس طرح ہے: ’’اس سے مراد وہ تعویذات، دم اور جھاڑ پھونک والی حرکتیں ہیں جو دلوں، عقلوں اور جسموں پر اثر انداز ہوں، عقلوں کو سلب کریں، محبت و نفرت پیدا کریں، شوہر اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں، جسمانی طور پر بیمار کر دیں اور سوچ بچار کو سلب کرکے رکھ دیں۔‘‘

جادو سیکھنا حرام ہے۔ بلکہ کفر ہے بشرطیکہ اس میں شیاطین کے اشتراک کے وسیلے کو بھی اختیار کر لیا گیا ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٞ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ﴾--البقرة:102

’’اور وہ ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہ) آزمائش میں مبتلا ہیں، تم کفر میں نہ پڑو، غرض کہ لوگ ان سے ایسا (جادو) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں اور اللہ کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے تھے اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔‘‘

اس قسم کے جادو کو سیکھنا جس میں شیاطین کے اشتراک کے واسطہ کو اختیار کیا گیا ہو کفر اور اس کا استعمال کفرہے جو ظلم اور لوگوں سے دشمنی کا پیش خیمہ ہے، اسی لیے حکم شریعت یہ ہے کہ جادوگر کو ارتداد کی بنا پر یا حد کے طور پر قتل کر دیا جائے ۔ اگر اس کے جادو کی نوعیت ایسی ہو جو موجب کفر ہو تو اسے ارتداد و کفر کی بنا پر قتل کر دیا جائے گا اور اگر اس کا جادو درجہ کفر تک نہ پہنچتا ہو تو اس کے شر کو دور کرنے اور مسلمانوں کو اس کی ایذا سے بچانے کے لیے اسے حد کے طور پر قتل کیا جائے گا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ