سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(49) تمام امتوں کو دجال سے کیوں ڈرایا گیا؟

  • 871
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 822

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں کو دجال سے کیوں ڈرایا ہے، حالانکہ وہ تو آخری زمانے میں خروج کرے گا۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں کو دجال سے کیوں ڈرایا ہے، حالانکہ وہ تو آخری زمانے میں خروج کرے گا۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

آدم علیہ السلام  کی پیدائش سے لے کر قیامت برپا ہونے تک روئے زمین پر سب سے بڑا فتنہ دجال کا فتنہ ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام  سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر ایک نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے۔ کیونکہ یہ بہت بڑا ہولناک فتنہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ دجال آخری زمانے میں خروج کرے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوموں کو اس سے ڈرائیں تاکہ اس کا خطرہ اور ہولناکی کی واضح ہو جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«اِنْ يَّخْرُجْ وَاَنَا فِيْکُمْ فَاَنَا حَجِيْجُهُ دُوْنَکُم۔ صلوات الله وسلامه عليه يعنی أکفيکم اياه۔ْ وَالاْ فَامْرُؤٌ حَجِيْجُ نَفْسِهِ وَاللّٰهُ خَلِيْفَتِیْ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ»صحیح مسلم، الفتن، باب ذکر الدجال وصفته وما معه، ح: ۳۹۳۷۔

’’اگر میری موجودگی میں وہ نکلا تو تمہاری بجائے میں خود اس سے نپٹ لوں گا اور اگر وہ میری عدم موجودگی میں نکلا تو پھر ہر آدمی اپنی طرف سے خود اس سے نپٹے گا اور ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ میری طرف سے نگہبان ہے۔‘‘ توہمارا رب کریم جل جلالہ کیا خوب قائم مقامی کرنے والانگہبان اور نگراں ہے۔

دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ آدم علیہ السلام  کی پیدائش سے لے کر قیامت برپا ہونے تک روئے زمین پر رونما ہونے والا یہ سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے فتنوں میں یہی وہ فتنہ ہے جس سے خاص طور پر نماز میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی جاتی ہے، یعنی اس فتنے سے بچنے کے لیے نماز میں یہ دعا مانگی جانی چاہئے۔

« أَعُوذ باللهُ من عذاب جهنم،وَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ومن فتنة المحيا والممات،ومن فتنة المسيح الدجال»صحیح البخاری، الاذان، باب التعوذ من عذاب القبر، ح:۱۳۷۷، وسنن ابی داود، الصلاة، باب مایقول بعد التشهد، ح:۹۸۴ وسنن ابن ماجه الدعاء، باب ما تعوذ منه رسول اللہﷺ، ح:۳۸۴۰ واللفظ له)

’میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور پناہ لیتا ہوں قبر کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں حیات وممات کے فتنہ سے اور اللہ کی پناہ میں آتاہوں کانے دجال کے فتنے سے۔‘ـ‘

دجال: ’’دجل‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی حقائق کو چھپانے اور دھوکہ دینے کے ہیں، کیونکہ اس سے بڑا دھوکہ باز کوئی نہیں دجال لوگوں کو سب سے زیادہ دھوکہ اور فریب دینے والا بن کر نمودارہوگا۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائدکےمسائل:صفحہ101

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC