سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(139) خاتون نے جہالت کی وجہ سے زیورات کی زکوٰۃ ادا نہیں کی

  • 8678
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-18
  • مشاہدات : 931

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 ایک عورت کے پاس نصاب کے مطابق سونا ہے اور اسے قریبا پانچ سال بعد یہ علم ہوا کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہے اور اب وہ اس کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہے لیکن اس سونے کے علاوہ اس کے پاس اور کچھ نہیں ہے، لہذا سوال یہ ہے کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں کی زکوٰۃ کے حوالہ سے کیا کرے؟ کیا کچھ سونا بیچ کر زکوٰۃ ادا کر دے یا کیا کرے؟ اور آئندہ سالوں میں وہ کیا کرے؟ اگر وہ اس سونے کی یکبار زکوٰۃ ادا کرنا چاہیے تو اس کے بغیر اور کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ ہر سال کچھ سنا بیچ دے، کیونکہ اس کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی تھوڑا بہت سرمایہ نہیں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس عورت کو مستقبل میں اپنے زیورات کی ہر سال زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی بشرطیکہ زیورات نصاب کے بقدر ہوں اور نصاب بیس مثقال ہے جو کہ (3/7-11) مثقال سعودی گنی کے برابر ہے، گرام کے حساب سے یہ بانوے گرام کے برابر ہے، زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے خواہ یہ سونے یا اپنی کسی اور چیز کو بیچ کر ادا کر لے اگر اس کی اجازت سے اس کی طرف سے اس کا شوہر یا باپ وغیرہ زکوٰۃ ادا کر دے تو پھر بھی کوئی حرج نہیں ورنہ جب تک یہ ادا نہیں کرے گی زکوٰۃ اس کے ذمہ قرض ہو گی۔ وجوب زکوٰۃ کے علم سے پہلے گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کے حوالے سے اس پر کچھ واجب نہیں ہے، کیونکہ ایک تو اسے وجوب زکوٰۃ کا علم ہی نہیں تھا اور دوسرے یہ کہ اس وجوب میں کچھ شبہ بھی ہے، کیونکہ بعض اہل علم کے نزدیک ان زیورات میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے جو پہنے جاتے ہوں یا پہننے کے لیے تیار کئے گئے ہوں لیکن راجح ترین بات یہی ہے کہ زیورات میں زکوٰۃ واجب ہے بشرطیکہ ان کا وزن نصاب کے مطابق ہو اور ایک سال کی مدت گزر جائے۔ کتاب و سنت کے دلائل سے یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

کتاب الزکاۃ: ج 2  صفحہ 124

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ