سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(123) زمین کی زکوٰۃ

  • 8662
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-17
  • مشاہدات : 734

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے پاس ایک پلاٹ ہے جسے میں استعمال میں نہیں لا رہا بلکہ اسے میں نے ضرورت کے لیے رکھا ہوا ہے۔ کیا اس پلاٹ پر زکوٰۃ واجب ہے؟ اور جب اس کی زکوٰۃ ادا کرون تو کیا ہر مرتبہ اس کی قیمت کا اندازہ مقرر کروں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ پر اس پلاٹ کی زکوٰۃ نہیں ہے، کیونکہ سامان کی قیمت پر اس وقت زکوٰۃ واجب ہے جبکہ وہ بغرض تجارت ہو، زمین، جائیداد، گاڑیوں اور قالینوں وغیرہ میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ اور اگر ان اشیاء سے مال یعنی روپیہ کمانا مقصود ہو بایں طور پر کہ یہ خریدوفروخت اور تجارت کے لیے ہوںں تو پھر ان کی قیمت میں زکوٰۃ واجب ہو گی اور اگر یہ اشیاء بغرض تجارت نہ ہوں جیسا کہ آپ نے سوال میں پوچھا ہے تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

کتاب الزکاۃ: ج 2  صفحہ 116

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ