سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(82) ایک بدعت

  • 8621
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-17
  • مشاہدات : 690

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
"الترغیب والترہیب" میں ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کی قبر کی مٹی کی ایک مٹھی لو اور اس پر یہ آیات پڑھو۔۔۔ اب مجھے وہ آیات یاد نہیں۔۔۔ پھر وہ مٹی اس کے کفن پر ڈال دو تو اس سے میت کو عذاب قبر نہیں ہو گا۔ یہ بات کس حد تک صحیح ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

"الترغیب والترہیب" میں ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کی قبر کی مٹی کی ایک مٹھی لو اور اس پر یہ آیات پڑھو۔۔۔ اب مجھے وہ آیات یاد نہیں۔۔۔ پھر وہ مٹی اس کے کفن پر ڈال دو تو اس سے میت کو عذاب قبر نہیں ہو گا۔ یہ بات کس حد تک صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ ایک بالکل بے اصل بات بلکہ بہت بری بدعت ہے لہذا یہ جائز نہیں اور نہ اس میں کوئی فائد ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس کا حکم نہیں دیا بلکہ آپ نے صرف یہ حکم دیا ہے کہ جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے تو اسے غسل دیا جائے، کفن پہنایا جائے، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور مسلمانوں کے قبرستان میں اسے دفن کر دیا جائے۔ جبکہ اس وقت موجود لوگوں کو حکم یہ ہے کہ تدفین سے فراغت کے بعد میت کی مغفرت اور حق پر ثابت قدمی کے لیے دعا کی کریں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دعا فرمایا کرتے اور دعا کا حکم بھی دیا کرتے تھے۔[1]


[1] سنن ابی داود، الجنائز، باب الاستغفار عند القبر، حدیث: 3221

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ