سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(23) رات کے وقت مسجد کو تالا لگانا

  • 8562
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-17
  • مشاہدات : 479

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رات کے وقت مسجدوں کو تالا لگا دیا جاتا اور ان مسلمانوں کو نکال دیا جاتا تھا یا نہیں جو مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے آتے اور مسجد کی دیواروں کے پاس سو جایا کرتے تھے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رات کے وقت مسجدوں کو تالا لگا دیا جاتا اور ان مسلمانوں کو نکال دیا جاتا تھا یا نہیں جو مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے آتے اور مسجد کی دیواروں کے پاس سو جایا کرتے تھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہماری معلومات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجدوں کو تالا نہیں لگایا جاتا تھا اور نہ اس دور میں قالین وغیرہ بچھائے جاتے تھے اور لوگ بھی بے حد متقی اور پرہیز گار تھے کہ وہ نہ مسجدوں میں فساد برپا کرتے تھے اور نہ ہی انہیں گندہ کرتے تھے۔ جب مسجدوں میں قالین بچھا دئیے گئے، ان کی چوری کا خدشہ پیدا ہوا، لوگوں کی جہالت میں اضافہ ہو گیا اور بعض لوگوں نے مسجدوں میں فتنہ و فساد برپا کرنا شروع کر دیا تو ان حالات میں حاکم وقت کے لیے یہ جائز ہو گیا کہ اگر وہ چاہے تو مصلحت کی وجہ سے مسجد کو مقفل کر سکتا ہے تاکہ مسجد کے سازوسامان کو محفوظ کیا جس سکے اور بے وقوفوں کے فتنہ و فساد سے انہیں پاک رکھا جا سکے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ