سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(04) عورت مسجد میں نماز ادا کر سکتی ہے

  • 8541
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-16
  • مشاہدات : 551

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کمیٹی کو حسب ذیل سوال موصول ہوا کہ تنزانیہ میں بعض مشائخ نے مسلمانوں کو یہ فتویٰ دیا ہے کہ مسجد میں عورتوں کی نماز جائز نہیں ہے کیونکہ وہ نجس ہیں اور ان کے لیے مسجدوں میں داخل ہونا جائز نہیں اور اس فتویٰ کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت اختلاف پیدا ہو چکا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کمیٹی کو حسب ذیل سوال موصول ہوا کہ تنزانیہ میں بعض مشائخ نے مسلمانوں کو یہ فتویٰ دیا ہے کہ مسجد میں عورتوں کی نماز جائز نہیں ہے کیونکہ وہ نجس ہیں اور ان کے لیے مسجدوں میں داخل ہونا جائز نہیں اور اس فتویٰ کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت اختلاف پیدا ہو چکا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کمیٹی نے اس کا حسب ذیل جواب دیا: انسان نجس نہیں ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، زندہ ہو یا مردہ، لہذا عورت مسجد میں داخل ہو سکتی ہے ہاں البتہ اگر وہ جنبی ہے یا حائضہ ہو تو پھر اس کے لیے مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں الا یہ کہ وہ راستہ عبور کرنے والی ہو تو پھر اس حفاظت کے ساتھ گزر سکتی ہے کہ مسجد میں خون نہ گرے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا جُنُبًا إِلّا عابِر‌ى سَبيلٍ حَتّى تَغتَسِلوا...٤٣﴾... سورة النساء

"اور جنابت کی حالت میں بھی (مسجد میں نہ جاؤ نہ نماز پڑھو) جب تک کہ غسل نہ کر لو، ہاں اگر (مسجد کے اندر سے) راہ چلتے گزر جانے والے ہو (تو یہ جائز ہے)۔"

امہات المومنین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت مسجد میں تشریف لے آیا کرتی تھیں جب آپ مسجد میں اعتکاف میں ہوتے تھ، اسی طرح ایک باندی مسجد نبوی کی صفائی کا کام بھی کیا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو منع فرمایا کہ وہ عورتوں کو مسجدوں میں نماز ادا کرنے سے روکیں، چنانچہ آپ نے فرمایا:

(لا تمنعوا اماء الله مساجد الله) (صحيح البخاري‘ الجمعة‘ باب:13‘ ح: 900 وصحيح مسلم‘ الصلاة‘ باب خروج النساء الي المساجد...الخ‘ ح:442)

"اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔"

حدیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(خير صفوف الرجال اولها‘ وشرها آخرها‘ وخير صفوف النساء آخرها‘ وشرها اولها) (صحيح مسلم‘ الصلاة‘ باب تسوية الصفوف واقامتها...الخ‘ ح:440)

"مردوں کی بہترین، پہلی صف اور بدترین صف آخری ہے اور عورتوں کی بہترین صف، آخری اور بدترین صف پہلی ہے۔"

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نماز با جماعت ادا کرتے ہوئے انہیں مردوں کی صفوں کے اعتبار سے کہاں کھڑا ہونا چاہیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے:

(اذا استاذنكم نساؤكم بالليل الي المسجد فاذنوا لهن) (صحيح البخاري‘ الاذان‘ باب خروج النسائ الي المساجد بالليل والغلس‘ ح:865 وصحيح مسلم‘ الصلاة‘ باب خروج النساء الي المساجد...الخ‘ ح:442)

"عورتیں اگر تم سے رات کی نماز مسجد میں ادا کرنے کی اجازت طلب کریں تو انہیں اجازت دے دیا کرو۔"

فتویٰ کمیٹی کی طرف سے عورت کے مسجد میں نماز با جماعت ادا کرنے کے بارے میں پہلے ایک فتویٰ صادر ہو چکا ہے جو کہ حسب ذیل ہے:

عورت کے لیے اس بات کی اجازت ہے کہ وہ نماز جمعہ اور دیگر تمام نمازیں باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں آ سکتی ہے۔ اس کے شوہر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اسے مسجد میں آنے سے منع کرے ہاں البتہ عورت کے لیے اپنے گھر میں نماز ادا کرنا افضل ہے۔ عورت جب مسجد میں آئے تو اسے ان آداب کی پابندی کرنی چاہیے جو اسلام نے اسے سکھائے ہیں، یعنی لباس ایسا زیب تن کرے جو سترپوشی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہو، چست اور باریک لباس پہننے سے اجتناب کرے، مسجد میں آتے وقت خوشبو استعمال نہ کرے، مردوں کی صفوں میں بھی شامل نہ ہو بلکہ مردوں کی صفوں کے پیچھے صف بنائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں اس طرح مسجدوں میں آتی تھیں کہ انہوں نے اپنی چادروں کے ساتھ اپنے آپ کو چھپا رکھا ہوتا تھا اور وہ مردوں کی صفوں کے پیچھے صفیں بنا کر نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ حدیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لا تمنعوا اماء الله مساجد الله) (صحيح البخاري‘ الجمعة‘ باب:13‘ ح: 900 وصحيح مسلم‘ الصلاة‘ باب خروج النساء الي المساجد...الخ‘ ح:442)

"اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔"

اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے:

(خير صفوف النساء آخرها‘ وشرها اولها) (صحيح مسلم‘ الصلاة‘ باب تسوية الصفوف واقامتها...الخ‘ ح:440)

"عورتوں کی بہترین صف، آخری صف اور بدترین صف، پہلی صف ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ