سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(38) اللہ کے ناموں یا صفات کا انکار کفر ہے

  • 850
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 549

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر اللہ تعالیٰ کے اسماء یا صفات میں سے کسی چیز کا انکار کر دیا جائے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر اللہ تعالیٰ کے اسماء یا صفات میں سے کسی چیز کا انکار کر دیا جائے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اس انکار کی دو قسمیں ہیں:

انکار تکذیب:

 یہ بلا شک و شبہ کفر ہے۔ اگر کوئی شخص کتاب وسنت میں ثابت شدہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے کسی اسم یا صفات میں سے کسی صفت کا انکار کر دے، مثلاً: وہ یہ کہے کہ اللہ کا ہاتھ نہیں ہے، تو تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ایسا شخص کافر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کسی خبر کی تکذیب کرنا ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔

انکار تاویل:

 یعنی انکار تو نہ کرے مگر تاویل سے کام لے۔ اس کی درج ذیل دو قسمیں ہیں:

٭           اس تاویل کی عربی زبان میں گنجائش ہو تو یہ موجب کفر نہیں ہے۔

٭           عربی زبان میں اس تاویل کی گنجائش نہ ہو تو یہ موجب کفر ہے۔

کیونکہ جب زبان میں اس کی گنجائش نہ تھی تو یہ تکذیب ہوگئی جیسے کوئی یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کا نہ تو حقیقت میں کوئی ہاتھ ہے اور نہ یہ نعمت یا قوت کے معنی میں ہے تو یہ کافر ہے کیونکہ اس نے مطلق نفی کر دی ہے اور یہ حقیقتاً تکذیب کرنے والا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص ارشاد باری تعالیٰ:

﴿بَل يَداهُ مَبسوطَتانِ ..﴿٦٤﴾... سورة المائدة

’’بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔‘‘

کے بارے میں یہ کہے کہ دونوں ہاتھوں سے مراد آسمان اور زمین ہیں تو وہ بھی کافر ہے کیونکہ ازروئے لغت یہ معنی صحیح نہیں ہیں اور نہ شرعی حقیقت ہی کا یہ تقاضا ہے، لہٰذا یہ معنی بیان کرنے والا بھی منکر اور مکذب ہی قرار پائے گا۔

ہاں اگر وہ یہ کہے کہ ﴿یَدٌ﴾ سے مراد نعمت یا قوت ہے، تو وہ کافر نہیں ہوگا کیونکہ ﴿یَدٌ ﴾ کا لفظ عربی زبان میں نعمت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا ہے:

وَکَمْ لِظَلَام اللَّیْلِ عِنْدَکَ مِنْ یَدٍ

تُحَدِّثُ اَنَّ الْمَانَوِیَة تَکْذِبُ

’’رات کی تاریکی کے تم پر کتنے احسانات ہیں، جو یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’مانویہ‘‘ جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘

اس شعر میں یَدٌ کا لفظ نعمت کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ مانویہ فرقے کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ظلمت اور تاریکی سے خیر پیدا نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے شر ہی جنم لیتا ہے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ90

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ