چودہویں:
یہ جما عت گزر چکی ان کے لئے وہ جو انہو ں نے کیا (یعنی ان کے اعمال ان کے کا م آئیں گے ) اور تمہا رے لئے وہ جو تم نے کیا اور وہ جو عمل کر تے تھے ان کی پر سش تم سے نہیں ہو گی۔''
اس آیت کا مقصود یہ ہے کہ ہر انسا ن کواس کے اپنے عمل کی جزادی جا ئے گی کسی دوسر ے کے عمل کے با رے میں اس سے پر سش ہو گی نہ کسی دوسرے سے اس کے با رے میں سوال ہو گا جیسا کہ دوسری آیت میں اس طرح فر ما یا ''
ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہو ا ہے ۔نیز فر ما یا :
اور کو ئی شخص کسی (کے گنا ہ ) کا بو جھ نہیں اٹھا ئے گا ''۔لہذا ہر شخص کو خیر کے کما نے اور شر سے بچنے کے لئے کو شش کر نی چا ہیے اور اسے یہ نہیں چا ہیے کہ اپنے آپ کو کسی غیر سے متعلق کر کے اس پر فخر کر ے یا اس کی قرابت یا صلہ رحمی یا دنیا میں اس کی تعظیم کر نے کی وجہ سے امید کر بیٹھے کہ وہ قیا مت کے دن کے عذاب سے نجا ت پا لے گا ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ امت ماضہ کے عموم میں دا خل ہیں لیکن کتا وسنت کے دلائل سے ان کی یہ تخصیص ثا بت ہو چکی ہے کہ انہیں آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا گیا وہ اب تک زندہ مو جو د ہیں اور آخر زما نہ میں نازل ہوں گے جیسا کہ قبل ازیں بیا ن کیا جا چکا ہے اور یہ اسلامی شریعت کا مشہور معروف اصول ہے کہ کہ نصوص خا صہ کی روشنی میں نصوص عامہ کی تخصیص کر دی جا تی ہے چنانچہ ان نصوص خاصہ میں سے ایک نص یہ بھی ہے ۔
هذا ما عندي والله اعلم بالصواب