سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(174) کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا مردہ ؟ اور اب وہ کہاں ہیں ؟

  • 8468
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-16
  • مشاہدات : 1103

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام  زندہ ہیں یا مردہ تو اس وقت کہا ں ہیں؟ کتا ب و سنت سے اس کی دلیل کیا ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام  زندہ ہیں  اور اب تک فوت نہیں ہوئے  یہودیوں نے آپ کو قتل کیا نہ پھا نسی دی  بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہو ئی  اور اللہ تعا لیٰ نے  انہیں  بدن روح  سمیت آسمانو ں پر  اٹھا لیا تھا اور اب وہ آسمانوں ہی میں ہیں ، اس کی دلیل  حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ  ہے ، جو یہودیوں کی افتراء  پروازیوں کے جوا ب میں ہے کہ :

﴿فَبِما نَقضِهِم ميثـقَهُم وَكُفرِ‌هِم بِـٔايـتِ اللَّهِ وَقَتلِهِمُ الأَنبِياءَ بِغَيرِ‌ حَقٍّ وَقَولِهِم قُلوبُنا غُلفٌ بَل طَبَعَ اللَّهُ عَلَيها بِكُفرِ‌هِم فَلا يُؤمِنونَ إِلّا قَليلًا ﴿١٥٥ وَبِكُفرِ‌هِم وَقَولِهِم عَلى مَر‌يَمَ بُهتـنًا عَظيمًا ﴿١٥٦ وَقَولِهِم إِنّا قَتَلنَا المَسيحَ عيسَى ابنَ مَر‌يَمَ رَ‌سولَ اللَّهِ وَما قَتَلوهُ وَما صَلَبوهُ وَلـكِن شُبِّهَ لَهُم وَإِنَّ الَّذينَ اختَلَفوا فيهِ لَفى شَكٍّ مِنهُ ما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ إِلَّا اتِّباعَ الظَّنِّ وَما قَتَلوهُ يَقينًا ﴿١٥٧ بَل رَ‌فَعَهُ اللَّهُ إِلَيهِ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا ﴿١٥٨﴾... سورة النساء

''(لیکن انہوں نے عہد کو تو ڑ ڈا لا ) تو ان کے عہد تو ڑ دینے  اور اللہ  کی آیتو ں سے کفر کر نے   اور انبیا ء  ؑ کو نا حق  ما ر ڈا لنے  اور  یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہما رے دلو ں پر پردہ پڑ ہو ا ہے (نہیں ) بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے  اللہ نے ان کے دلو ں پر مہر لگا دی ہے ، سو چند آدمیوں کے سوا کو ئی ایما ن نہیں لا تا  اور ان کے انکا ر کر نے اور مریم ؑپر بہتا ن عظیم  با ندھنے اور کہنے  کے سبب ہم نے مر یم کے بیٹے   عیسیٰ علیہ السلام مسیح کو جو اللہ کے پیغمبر (کہلاتے ) تھے  قتل کر دیا ہے (اللہ نے ان کو ملعون کر دیا )  اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام  کو قتل نہیں کیا  اور نہ انہیں سولی  پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی صورت معلوم ہو ئی اور جو لو گ ان کے با رے میں  اختلا ف کر تے  ہیں ،   وہ ان کے حا ل سے  شک میں پڑے ہو ئے ہیں   اور پیروی ظن کے  سوا ان کو اس  کا مطلق  علم   نہیں  اور انہوں نے عیسی ٰ علیہ السلام کو یقینا قتل نہیں کیا   بلکہ اللہ تعا لیٰ نے ان کو  اپنی طرف اٹھا لیا   اور اللہ غا ئب اور حکمت وا لا ہے ان آیا ت میں اللہ تعا لیٰ نے یہودیوں کی تردید کر تے ہو ئے فر ما یا  کہ انہو ں نے حضرت عیسی علیہ السلام  کو قتل کیا نہ سو لی چڑ ھا یا  بلکہ اللہ تعا لیٰ نے انہیں  آسما نو ں پر ز ندہ اٹھا لیا تھا یہ اللہ تعا لیٰ کی طرف سے ان پر رحمت  اور ان کی عزت افزا ئی تھی   تا کہ وہ اللہ تعا لیٰ کی ان نشا نیوں میں سے  ایک نشا نی بن جا ئیں  جسے اللہ تعا لیٰ نے اپنے  رسو لو ں  میں سے جسے چا ہتا  ہے  عطا فر ما دیتا ہے ۔ حضرت بن مر یم علیہ السلام کا وجود  اول سے آخر تک سرا پا   آیا ت  الٰہی  ہے  اور ارشا د با ری تعا لیٰ ہے  :(بل رفعه الله اليه)بلکہ اللہ نے ان کو  اٹھا لیا  ؛میں اضرا ب کا تقا ضا  ہے  کہ اللہ سبحانہ وتعا لیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام   بدن  بمعہ رو ح  کے اوپر اٹھا لیا  تا کہ یہودیو ں کے اس گما ن کی تردید ہو سکے  کہ انہو ں نے حضرت  عیسی علیہ السلام  کو  سو لی پر چڑھا یا اور قتل کیا ہے کیو نکہ قتل و صلب  تو اصل  میں بدن  ہی کے لئے  ہو تا ہے  اور اگر صرف روح ہی کو اٹھا یا گیا  ہو تا تو یہ ان کے  دعوی قتل وصلب  کے منا فی ہو تا  محض روح کے رفع سے  یہو دیوں کے بہتا ن  کی تردید نہ ہو سکتی تھی کیو نکہ عیسی علیہ السلام   جسم  روح  دونو ں سے  تعبیر ہیں ،  ان میں سے کسی ایک پر بغیر  کرینہ کے  حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کا اطلا ق نہیں ہو سکتا   اور یہا ں کوئی  قرینہ نہیں ہے  اور پھر  روح  بدن  سمیت اٹھا نا ہی   اللہ تعا لیٰ کے کما ل عزت  حکم  و تکریم  اور  نصرت و تا ئید  کا تقا ضا  ہے ، جیسا کہ اس آیت کے اختتا م پر ان الفا ظ (وكان الله عزيزا حكيما)کا بھی  یہی تقا ضا ہے ۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ