سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(172) نبی ﷺ کی محبت صرف ایک ہی رات کے لئے تو نہیں ہونی چاہیے

  • 8466
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-15
  • مشاہدات : 1021

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میلاد النبی منا نے کا کیا حکم ہے ؟براہ کرم تفصیل سے جواب دیجیے  آج کل اس موضوع پر بہت گفتگو ہو رہی ہے  ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ قطعا ثابت نہیں  کہ نبی ﷺ نے کبھی اپنا یو م  میلاد منایا ہو یا کسی اور کا میلاد منایا ہو  اور بہترین طریقہ تو  حضرت محمد ﷺ کا ہی طریقہ ہے  جب آپ ﷺنے اس رات کو نہیں منایا تو معلوم ہوا  کہ اس رات کی دوسری راتوں پر   کوئی فضیلت حا صل بھی ہے تو یہ صرف  اس رات کی فضیلت ہے جس میں آپ ﷺ  کی ولادت با سعادت  ہو ئی نہ کہ بعد میں آنے والے سالوں کی  ہر اس رات کو فضیلت  حاصل ہے ، اللہ تعا لیٰ نے دین کی تکمیل فر مادی ہے اور نبی ﷺ نے مکمل دین کو امت  تک پہنچا دیا ہے  اگر اس رات کو منانے کا کو ئی شرعی حکم ہو تا یا سنت ہوتا  اور آپ ﷺ  نے اسے بیان  نہ فر مایا  اس رات  کو خود منایا  نہ منانے کاحکم دیا  تو اس کے معنی یہ ہیں  کہ خدا نخواستہ آپ ﷺ کے زمانے میں  دین ناقص تھا  اور جس بات کا امت تک  پہنچانا  آپ ﷺ پر فرض  تھا  آپ نے اسے امت سے چھپایا دوسری طرف  صحیح حدیث سے ثا بت ہے  کہ نبی کر یم ﷺ نے فر مایا  ،

من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد

(صحيح بخاری کتاب الصلح باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود :2697) صحیح مسلم کتاب الاقضیہ باب نقض الاحکام الباطلۃ۔۔۔ح:1718)

‘‘جس نے ہمارے اس امر(دین)میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہ ہو تو وہ مردود ہے’’

بلاشبہ اس رات کو منانا  ایک  ایسا عمل ہے  جو رسول اللہ ﷺ کے بعد شروع ہوا ہے  یہ دین میں اپنی طرف سے اضافہ ہے   اور دین سے اس کا کوئی  تعلق نہیں  ہے لہذا یہ بدعت ہے   اور ہر بدعت ضلالت ہے  یہی وجہ ہے  کہ اس رات کو نبی ﷺ  نے منایا  نہ خلفاء  راشدین رضوان اللہ عنہم اجمعین نے اور نہ بعد کے  ائمہ  دین  رحمۃ اللہ علیہ نے  اس رات کو منایا   اس رات کو منانے  کا آغاز  چوتھی صدی ہجری میں بعض رافضیوں نے کیا تھا۔اور اس سے ان کا مقصد زمانہ جاہلیت کی بعض عادتوں کا احیاء تھا مسلمانوں کو گمراہ کرنا تھا ۔اس دور کے بہت سے لوگوں نے اس  رات کو منانا شروع کردیا اگرچہ جمہور اس کے خلا ف تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت ہرمسلمان پر فرض ہے۔ اور یہ بھی فرض ہے کہ یہ محبت سارے سال میں صرف ایک رات کے لئے نہ ہو۔بلکہ ہمیشہ کے لئے ہو۔اور آپﷺ کی محبت کاتقاضا ہے کہ کہ آپ کی اطاعت کی جائے آپ کے نقش قدم  پر چلا جائے۔ جو شخص ایسا کرے گا۔ وہ آپ کی اُمت اور آپ کے فرمانبرداروں میں سے ہوگا۔ اور جو شخص عبادت کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرے جو آپﷺ نے مقرر نہ فرمایا ہو تو اس نے آپ  ﷺ کی سنت اور آپﷺ کے طریقے کی مخالفت کی اور دین میں ایسا اضافہ کیا  جو اس میں سے نہیں ہے۔ میلاد رات نزول وحی کی رات معراج کی رات ہجرت کی رات اور غزوہ بدر کی رات سے افضل تو نہیں ہے۔ ان سب راتوں میں مسلمانوں کو نفع وخیر حاصل ہوا تھا اور یہ کسی ایک سے بھی ثابت نہیں کہ اس نے ان میں سے کسی رات کو کبھی منایا ہو یا اسے بیداری وشب زندہ داری کے لئے مخصوص کیا ہو حالانکہ وہ اس امت کے سلف تھے۔اچھا نمونہ تھے وہ لوگ اچھا نمونہ نہیں ہیں۔ جو اپنے ان اسلاف کے طریقہ کی مخالفت کریں۔

(شیخ ابن جبرینؒ) 

ازواج مطہرات میں سب سے افضل کون ہیں؟

جواب۔نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات کو خصوصی امتیاز وفضیلت حاصل ہے۔ وہ سب امہات المومنین رضوان اللہ عنھما اجمعین جیسا کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں اس نام سے موسوم  فرمایا ہے۔ان میں اسلام کے سبقت کے اعتبار سے حضرت خدیجہ بنت خویلد  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  افضل ہیں۔ جب کہ علم وفہم اور مسلمانوں کو نفع پہنچانے کے اعتبار سےسب سے افضل حضرت عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ہیں باقی ازواج مطہرات کو بھی شرف وفضیلت حاصل ہے۔ جس کا انکار صرف رافضی  وغیرہ ہی کرتے ہیں۔ ہم رافضیوں اور ان کے پیروکاروں کے عقائد سے اظہاربراءت کرتے ہیں۔ہم سائل کو مشورہ دیں گے کہ وہ  عقیدہ واسطیہ کی شروح مثلا(الکواشف الجلیلۃ والا مسئلۃ والا جوبۃ الاصولیۃ التنبھیات النیۃ اور االروضۃ الندیۃ ) اور عقائد کی دیگر کتب مثلا ''معارج القبول'' وغیرہ کا مطالعہ کریں۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ