سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

اسباب ووسائل پر بھروسہ اور تعلق قلبی کا کیا حکم ہے

  • 846
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 868

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسباب ووسائل پر بھروسہ اور تعلق قلبی کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اسباب اختیار کرنے کی کئی اقسام ہیں:

پہلی قسم:

 وہ ہے جو اپنے اصل کے اعتبار سے توحید کے منافی ہے، مثلاً یہ کہ انسان کسی ایسی چیز سے تعلق خاطر یا میلان طبع کے ساتھ وابستگی کا رویہ اپنائے، جس میں کسی تاثیر کا ہونا ممکن ہی نہ ہو مگر وہ اس پر کامل اعتماد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اعراض کر لے جیسا کہ قبروں کے پجاری مصیبتوں کے وقت قبروں میں مدفون مردوں سے مدد مانگتے ہیں، تو ان کا یہ تعامل ایسا شرک اکبر ہے جس کی وجہ سے انسان ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے کسی سبب کو اختیار کرنے والے کے بارے میں یہ حکم واردہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیت کریمہ میں بیان فرمایا ہے:

﴿إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ﴾--المائدة:72

’’جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا، اللہ اس پر بہشت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘

دوسری قسم:

 بندہ کسی صحیح شرعی سبب پر اعتماد کرے لیکن مسبب الأسباب یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے تجاہل عارفانہ برتے۔ یہ بھی شرک ہی کی ایک قسم ہے۔ لیکن اس اعتقادکی وجہ سے انسان ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اس نے سبب پر بھروسا کیا ہے اور مسبب یعنی اللہ تعالیٰ کو بھول گیا ہے۔

تیسری قسم:

 سبب پر صرف اتنا اعتماد کرے کہ وہ صرف سبب ہے اور حقیقی بھروسا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہی پر کرے اور اعتقاد یہ رکھے کہ یہ سبب بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، وہ چاہے تو اسے باقی رکھے اور اگر چاہے تو اسے ختم کر دے۔ اس سبب کا اللہ تعالیٰ کی مشیت میں کوئی اثر نہیں۔ وسیلہ اور سبب اختیارکرنے کے بارے میں بندے کا یہ طریقہ نہ تو اصل کے اعتبار سے توحید کے منافی ہے نہ ہی کمال وتمام کے اعتبار سے ہی اس کی عقیدئہ توحیدپر کوئی زد پڑتی ہے۔

شرعی اور صحیح اسباب موجود ہونے کے باوجود انسان کو چاہیے کہ وہ اسباب ہی پر انحصار نہ کرے بلکہ انحصار صرف اللہ کی ذات گرامی پر کرے، چنانچہ وہ ملازم جس کا کامل اعتماد صرف اپنی تنخواہ پر ہو اور وہ مسبب، یعنی ذات باری تعالیٰ سے غفلت کا شکارہو ، تو یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے۔ اگر اس کا اعتقاد یہ ہو کہ تنخواہ تو ایک سبب ہے اور مسبب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات پاک ہے، تو یہ توکل کے منافی نہیں کیونکہ اسباب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اختیار فرمایا کرتے تھے، جب کہ آپ کا حقیقی اعتماد اور بھروسا صرف مسبب یعنی اللہ عزوجل کی ذات بابرکات پر ہوتا تھا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل صفحہ 65

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ