سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(168) کیا نبی کریم ﷺ علم غیب جانتے ہیں؟

  • 8458
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-15
  • مشاہدات : 1228

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا نبی کریمﷺ حاضر وناضر ہیں۔ یعنی علم غیب جانتے ہیں۔کہ آپ کے نزدیک حاضر وغائب یکساں ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امورغیب کے بارے میں اصل بات یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ٰ کا خاصہ ہیں'انھیں اللہ تعالیٰ ٰ ہی جانتا ہے'ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:

﴿وَعِندَهُ مَفاتِحُ الغَيبِ لا يَعلَمُها إِلّا هُوَ وَيَعلَمُ ما فِى البَرِّ‌ وَالبَحرِ‌ وَما تَسقُطُ مِن وَرَ‌قَةٍ إِلّا يَعلَمُها وَلا حَبَّةٍ فى ظُلُمـتِ الأَر‌ضِ وَلا رَ‌طبٍ وَلا يابِسٍ إِلّا فى كِتـبٍ مُبينٍ ﴿٥٩﴾... سورة الانعام

''او ر اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں۔ جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوراسے جنگلوں اور دریاوں کی سب چیزوں کا علم ہے۔اور کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اورکوئی ہری یا سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔''

اور فرمایا :

﴿قُل لا يَعلَمُ مَن فِى السَّمـوتِ وَالأَر‌ضِ الغَيبَ إِلَّا اللَّهُ...وَما يَشعُر‌ونَ أَيّانَ يُبعَثونَ ﴿٦٥﴾... سورة النمل

‘‘(اے پیغمبرﷺ!)آپ کہہ دیجئے کہ آسمان اور زمین والوں میں سے اللہ کے سوا کوئی غیب کی باتیں نہیں جانتے!

ہاں البتہ اللہ تعالیٰ ٰ اپنے  رسولوں سے جس کو چاہتا ہے غیب کی  جس بات پر چاہتا ہے مطلع فرمادیتا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:

﴿عـلِمُ الغَيبِ فَلا يُظهِرُ‌ عَلى غَيبِهِ أَحَدًا ﴿٢٦ إِلّا مَنِ ار‌تَضى مِن رَ‌سولٍ فَإِنَّهُ يَسلُكُ مِن بَينِ يَدَيهِ وَمِن خَلفِهِ رَ‌صَدًا ﴿٢٧﴾... سورة الجن

''وہی غیب کی بات جاننے والا ہے۔اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس کو غیب کی باتیں بتا دیتا اور اس کے آگے اور پیچھے نگہبا ن مقرر کردیتا ہے۔''

اور فرمایا:

﴿قُل ما كُنتُ بِدعًا مِنَ الرُّ‌سُلِ وَما أَدر‌ى ما يُفعَلُ بى وَلا بِكُم إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحى إِلَىَّ وَما أَنا۠ إِلّا نَذيرٌ‌ مُبينٌ ﴿٩﴾... سورة الاحقاف

''کہہ دیجئے کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں آیا اور میں یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلو ک کیاجائے گا۔اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیاجائے  گا؟میں تو اس کی  پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو صاف کھلم کھلا ڈرانا ہے۔''

بطریق ام العلاء ایک طویل حدیث میں ہے کہ:

امرأة من الأنصار ـ بايعت النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته أنه اقتسم المهاجرون قرعة فطار لنا عثمان بن مظعون،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأنزلناه في أبياتنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فوجع وجعه الذي توفي فيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما توفي وغسل وكفن في أثوابه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت رحمة الله عليك أبا السائب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فشهادتي عليك لقد أكرمك الله‏.‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وما يدريك أن الله قد أكرمه ‏"‏‏.‏ فقلت بأبي أنت يا رسول الله فمن يكرمه الله فقال ‏"‏ أما هو فقد جاءه اليقين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والله إني لأرجو له الخير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والله ما أدري ـ وأنا رسول الله ـ ما يفعل بي ‏"‏‏.‏ قالت فوالله لا أزكي أحدا بعده أبدا‏.‏

(صحیح بخاری حدیث نمبر :1243)

''ام العلاء انصار کی ایک عورت نے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ مہاجرین قرعہ ڈال کر انصار میں بانٹ دیئے گئے تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے حصہ میں آئے۔ چنانچہ ہم نے انہیں اپنے گھر میں رکھا۔ آخر وہ بیمار ہوئے اور اسی میں وفات پا گئے۔ وفات کے بعد غسل دیا گیا اور کفن میں لپیٹ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوسائب آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں میری آپ کے متعلق شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ کی عزت فرمائی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے ان کی عزت فرمائی ہے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر کس کی اللہ تعالیٰ ٰ عزت افزائی کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شبہ نہیں کہ ان کی موت آ چکی، قسم اللہ کی کہ میں بھی ان کے لیے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں لیکن واللہ! مجھے خود اپنے متعلق بھی معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ام العلاء نے کہا کہ خدا کی قسم! اب میں کبھی کسی کے متعلق (اس طرح کی) گواہی نہیں دوں گی۔

اور ایک دوسری روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ:

ماادری وانا رسول الله ما يفعل به(صحيح بخاري ح:٧-١٨)

'' مجھے معلوم نہیں کہ اسکے ساتھ کیا سلو ک ہوگا حالانکہ میں اللہ تعالیٰ ٰ کا رسول ہوں۔''

اور بہت سی احادیث سے یہ بھی ثابت ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے نبی کریمﷺ کو بعض صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے انجام سے مطلع فرماکر انہیں جنت کی بشارت بھی سنادی تھی:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی مشہور حدیث  میں ہے کہ جب حضرت جبئرئیل نے نبی علیہ السلام  سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

ما المسئول عنها باعلم من السائل (صحيح بخاري ح50)

''اس کے بارے میں سائل کو مسئول سے زیادہ علم نہیں ہے''

پھر آپﷺ نے جبرئیل علیہ السلام  کو قیامت کی چند نشانیوں کے بارے میں ضرور بتایا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کو بس اتنا علم غیب تھا جتنا کہ آپ     کو اللہ تعالیٰ ٰ نے معلوم کروادیا  تھا۔اسی کے بارے میں آپﷺ نے بوقت ضرورت بتایا غیب کے باقی امور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ کو نہیں بتایا ان کے بارے میں آپﷺ کو علم نہ تھا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ