کیا حضرت محمد ﷺ کا نور اللہ کے نور میں سے تھا یا کسی اور نور سے تھا؟
نبی کریمﷺ کو جو نور حاصل تھا اس سے مراد نور ہدایت ورسالت ہے اس نور سے اللہ تعالیٰ ٰ نے اپنے بندوں کی آنکھوں کو چاہا ہدایت سے سرفراز فرمادیا اور بے شک نور رسالت وہدایت اللہ تعالیٰ ٰ کاعطا کردہ ہوتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:
''اور کسی آدمی کےلئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے مگر الہام( کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سےکوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ اللہ کے حکم سے جو اللہ چاہیے القاء کرے۔بے شک وہ عالی مرتبہ (اور ) حکمت والا ہے۔ اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے زریعے سے (قرآن ) بھیجا ہے آپ نہ تو کتاب کو جانتے تھے۔ اور نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے۔کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔اور بے شک (اے محمدﷺ!) تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو(یعنی ) اللہ کا راستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو مالک ہے۔! سب کام اللہ کی طرف لوٹیں گے۔اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا۔''
رسول اللہ ﷺ کو یہ نور ہدایت اللہ تعالیٰ ٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے آپ نے اس کا اکتساب خاتم الانبیاء سے نہیں کیا جیسا کہ بعض ملحد لوگ یہ بیان کرتے ہیں
باقی رہا آپ کا جسم مبارک تو وہ خون گوشت اور ہڈیوں ہی سے بنا ہوا تھا قانون فطرت کے مطابق اپنے ماں باپ کے گھر آپ کی ولادت باسعادت ہوئی ولادت باسعادت سے قبل آپ کی تخلیق نہیں ہوئی اور جو یہ روایت کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے سب سے پہلے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کے نور کو پیدا فرمایا یا جو یہ بیان کیاجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے اپنے چہرہ کے نور سے ایک مٹھی پکڑی اور فرمایا یہ مٹھی بھر نور محمدﷺ ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ ٰ نے اس مٹی کی طرف دیکھا تو اس سے قطرے گرنے لگ گئے اور اس ہر قطرے سے اللہ تعالیٰ ٰ نے ایک نبی پیدا فرمایا یاتمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ ٰ نے نور محمدی سے پیدا کیا تو یہ روایات نبی کریمﷺ سے قطعاً ثابت نہیں ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب