سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(145) غیر مسلم خادمہ کو ملازم رکھنا

  • 8435
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-15
  • مشاہدات : 606

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نے گھر میں اپنی بیوی کی مدد کےلئے ایک خادمہ بلانے کےلئے بیرون ملک خط لکھا تو جواب آیا کہ یہاں سے کوئی مسلمان خادمہ ممکن نہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ جائز ہے کہ میں کسی غیر مسلم خادمہ کو بلالوں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے گھر میں اپنی بیوی کی مدد کےلئے ایک خادمہ بلانے کےلئے بیرون ملک خط لکھا تو جواب آیا کہ یہاں سے کوئی مسلمان خادمہ ممکن نہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ جائز ہے کہ میں کسی غیر مسلم خادمہ کو بلالوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جزیرۃ العرب میں کسی بھی غیر مسلم خادم یا خادمہ ڈرایئور یا کسی بھی کارکن کوبلانا جائز نہیں کیونکہ نبی کریمﷺ نے حکم دیا تھا۔ کہ یہود ونصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکال دیاجائے آپ نے حکم دیا تھا کہ یہاں صرف مسلمان ہی باقی رہیں اور وفات کے وقت آپﷺ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ تمام مشرکوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔

کافر  مردوں اورعورتوں کے یہاں بلانے میں خطرہ ہے۔کہ اس سے یہاں مسلمانوں کے عقائد اخلاق اور ان کی اولاد کی اولاد پر بُرا اثر پڑے گا۔لہذا  اللہ تعالیٰ ٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت او رشرک وفساد کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان غیر مسلم خادموں سے اجتناب کریں

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ