سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(142) کافروں کے ساتھ مصافحہ اور سلام کا حکم

  • 8432
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-15
  • مشاہدات : 956

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا کافروں کے ساتھ مصافحہ کرنا اور انہیں پہلے سلام کرناجائز ہے؟ اگر وہ ہمیں سلام کہیں تو ہم ان کوکیسے جوابدیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کافروں کے ساتھ مصافحہ کرنا اور انہیں پہلے سلام کرناجائز ہے؟ اگر وہ ہمیں سلام کہیں تو ہم ان کوکیسے جوابدیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کفار ومشرکین یہود ونصاریٰ بت پرست اور دہریے سب نجس (پلید) ہیں۔جس طرح کے اللہ تعالیٰ ٰ نے ہمیں بتایا ہے لہذا ان کا احترام اکرام مجالس میں عزت افزائی ان کے احترام میں کھڑا ہونا اور انہیں پہلے سلام کرنا یا صبح بخیر اور شب بخیر وغیرہ کہناجائز نہیں۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔

لا تبدوا اليهود ولا النصاريٰ بالسلام واذا لقيتموهم في الطريق فاضطر وهم الي اضيقه (صحح مسلم ح:٢١٦٧)

''یہود ونصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب انھیں راستہ میں ملو توانہیں تنگ راستہ کی طرف مجبور کردو۔''

اوراگر وہ ہمیں سلام کریں تو ہمیں جواب میں صرف یہ کہنا چاہیے''وعلیکم''(تم پر بھی) کافروں کے ساتھ مصافحہ معانقہ اور ان کے ہاتھوں کو بوسہ دینا جائز نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ