سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(142) عید میلاد اور معراج کی محفلیں منعقد کرنا

  • 8401
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-22
  • مشاہدات : 1198

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے دن دعوت ومحفل کاانعقاد کرتے اور اس میں مہمانوں کو مدعو کرتے ہیں جو اکھٹے ہوکر قرآن مجید سیر ت الرسولﷺ اور دعائیں پڑھتے ہیں۔اسی طرح یہ لوگ اسراء ومعراج کے موقعہ پر بھی اسی طرح کرتے صدقہ کرتے اور  کھانا کھلاتے ہیں تو یہ سوال یہ ہے  کہ کیا یہ فعل جائز ہے یا حرام ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ ﷺکی محبت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ بلکہ اسوقت تک ایمان مکمل ہی نہیں ہوسکتا۔جب تک کسی کو اپنی اولاد والدین اپنی جان اور تمام لوگوں سے بڑھ کر رسول اللہﷺ کی ذات گرامی سے محبت نہ ہو اسی طرح بلاشک وشبہ آپ کی محبت وتعظیم کا یہ بھی تقاضا ہے۔کہ آپﷺ کی شریعت کااتباع اور آپ کی سنت کی پیروی کی جائے آپ سے پیش قدمی نہ کی جائے۔اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں کوئی ایسی چیز داخل نہ کی جائے۔جو شریعت میں سے نہ ہو کیونکہ کوئی شخص اگر اللہ تعالیٰ ٰ کی عبادت کےلئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ ٰ نے اپنے رسولﷺ کی زبانی اپنے بندوں کے لئے مقرر نہ کیا ہو تو وہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی پر نعوذ باللہ یہ الزام لگاتا ہے کہ آپ نے دین کو ادھورا چھوڑا ہے حالانکہ کوئی مسلمان ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امت کو بدعات سے بچنے کی تلقین فرمائی اور ارشاد فرمایا:

اياكم  ومحدثات الامور فان كل بدعة ضلالة (مسند احمد)

''اپنے آپ کو دین میں نئی باتوں سے بچائو کیونکہ ہر بدعت ضلالت وگمراہی ہے''

آپ ﷺ نےحکم دیا  کہ آپ کی سنت اور آپ کے بعد آنے والے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کیاجائے۔لاریب! نبی کریمﷺ کی تعظیم عبادت ہے۔لیکن اگر آپﷺ کی تعظیم اس طریقے سے کی جائے جو سنت سے ثابت نہیں تو پھر یہ تعظیم بدعت بن جائےگی۔رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے دن کو عید کے طور پر منانا اس طرح محفلوں کاانعقاد کرنا صدقہ کرنا اور دعوتوں کا اہتمام کرنا بلاشک وشبہ بدعت ہے۔ایک مرد مومن کے شایان شان صرف یہ بات ہے کہ وہ صرف اسی بات پر عمل کرے جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو کیونکہ دین میں جو نئی بات ایجاد کرلی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔اور جس سے آپ نے منع فرمادیا ہے۔ اس میں خیر کا کوئی پہلو نہیں اگر اس میں خیر کا کوئی پہلو ہوتا تو حضرات صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  یقیناً اور سب سے بڑھ کر اس کا اہتمام فرماتے۔

عید میلاد کی بدعت تو چوتھی صدی ہجری میں شروع ہوئی پہلی تین افضل صدیوں میں اس کا نام ونشان نہ تھا اگر عید میلاد حق ہوتی تو ابتدائی صدیوں کے مسلمان بھی یقیناً اس کا ہم سے بڑھ کر اہتمام فرماتے۔اگر آپ حب رسولﷺ کے دعوے میں سچے ہیں۔تو آپ ﷺ کی اتباع کیجئے۔کیونکہ آپ کی اتباع اور پیروی ہی سراپا خیروبھلائی ہے لہذا مسلمان بھائی! آپﷺ کی پیروی کو اختیار کیجئے اور ان بدعات کوترک کیجئے۔

تعجب ہے کہ بعض لوگ اس بدعت کا اس قدر شدہداہتمام کرتے ہیں گویا یہ سب سے بڑا واجب اور فرض ہو لیکن نبی کریمﷺ سےثابت شدہ صحیح سنتوں کے بارے میں بے حد سستی کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔لہذا اس طرز عمل سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے کہناچاہیے کہ''سمعنا واطعنا'' امام مالکرحمۃ اللہ علیہ  فرمایا کرتے تھے۔ اس امت کے آخر دور کی اصلاح بھی صرف اور صرف اسی چیز سے ممکن ہوگی جسے سے اس امت کی ابتدائی دو ر کی اصلاح ہوئی تھی۔

اس طرح معراج کے بارے میں بھی حضرات صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  یا قرون مشہود لھا بالخیر کے مسلمانوں میں سے کسی سے بھی  یہ ثابت نہیں کہ انھوں نے معراج کی مناسبت سے کسی محفل کاانعقاد کیا ہو اگر اس کاتعلق شریعت سے ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے ضرور بیان فرمادیتے۔ بلکہ حضرات صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  اور باقی امت کو بھی اس کی ضرور  دعوت دیتے۔

یہ بھی قطعاً ثابت نہیں کہ نبی کریمﷺ کی ولادت باسعادت بارہ ربیع الاول  کے دن یارات کو ہوئی ہو اور نہ یہ ثابت ہے کہ معراج 27 رجب کوہوا بعض علماء نے زکر کیا ہے کہ آپﷺ کی ولادت 12 کو نہیں بلکہ 9 ربیع الاو ل کو ہوئی اسی طرح معراج کے بارے میں بھی مشہوربات  یہ ہے کہ ربیع الاول میں ہوا قرین قیاس یہی بات معلوم ہوتی ہے اگرچہ یہ بھی محل نظر ہے۔تاہم کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ معراج رجب میں ہوا یا رمضان میں یاربیع الاول میں ؟گویا معراج اور میلاد کی یہ بدعت کسی بنیاد پر استوار نہیں ہے۔نہ شرعی اعتبار سے نہ تاریخی طور  پر لہذا عقل ونقل دونوں کاتقاجا ہے کہ ان محفلوں کے انعقاد سے اجتناب کیا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ