سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(188) مزدورلوگوں کے لیے روزہ چھوڑنے کا حکم

  • 84
  • تاریخ اشاعت : 2011-10-17
  • مشاہدات : 869

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو مشاہدہ میں آتا ہے کہ مزدوری پیشہ سے متعلق لوگ روزہ نہیں رکھتے میرا سوال یہ ہے کہ یہ ان کے لیے اسلام میں نرمی ہے کہ وہ روزہ چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں۔؟

 
 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو مشاہدہ میں آتا ہے کہ مزدوری پیشہ سے متعلق لوگ روزہ نہیں رکھتے میرا سوال یہ ہے کہ یہ ان کے لیے اسلام میں نرمی ہے کہ وہ روزہ چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں۔؟


 

 الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نصوص شرعیہ میں روزہ موخر کرنے کی علت سفر یا مرض یا جو اس کے حکم میں ہو، بیان کی گئی ہے۔ پس مریض اور مسافر کے لیے روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے اور وہ دوسرے دنوں میں ان کی قضا کرے گا یا اگر قضا کی طاقت نہ رکھتا ہو تو فدیہ ادا کرے گا۔

مزدور کے بارے شیخ بن باز رحمہ اللہ وغیرہ کا کہنا یہ ہے کہ وہ روزہ رکھے اور اگر روزہ مکمل کرنا اس کے لیے بہت مشقت کا باعث بن جائے تو وہ روزہ کھول دے اور دوسرے دنوں یعنی چھٹی یا سردیوں کے چھوٹے دنوں میں ان کی قضا کر لے۔

 ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ