سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(127) عدت پوری ہونے سے پہلے نکاح

  • 8386
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-12
  • مشاہدات : 1039

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک لڑکی جس نے اپنی عدت مکمل نہیں کی اور اسکا نکاح کسی دوسرے مرد سے ہوگیا ہے

تو کیا وه نکاح فاسد ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عدت پوری ہونے سے پہلے نکاح کرنا حرام ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَلا تَعزِموا عُقدَةَ النِّكاحِ حَتّى يَبلُغَ الكِتـبُ أَجَلَهُ...٢٣٥﴾... سورة البقرة

تم نکاح کی گرہ کو پختہ نہ کرو حتی کہ کتاب اپنی مدت کو پہنچ جائے۔

اس آیت مبارکہ معلوم ہوتا ہے کہ دوران عدت آگے نکاح کرنا حرام ہے ،اور عدت گزرنے کا انتظار کرنا ضروری ہے۔اگر کوئی عورت عدت گزارنے سے پہلے کسی سے نکاح کر لیتی ہے تو وہ نکاح باطل ہے اور ان کے درمیان جدائی ڈالنا ضروری ہے۔امام مالک اور امام احمد کے نزدیک وہ عورت اس مرد کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی۔جبکہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک نکاح تو فسخ ہو جائے گا لیکن وہ اس پر دائمی حرام نہیں ہوگی،بلکہ عدت گزر جانے کے بعد وہ دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ