سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(123) طلاق کنایہ کا حکم

  • 8382
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-12
  • مشاہدات : 1141

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ مسئلہ میری بہن کے ساتھ پیش آیا ہے۔ میری بہن کی میرے بہنوئی کے ساتھ لڑائی ہوئی، جس میں شوہر نے اس کو خاصا زدوکوب بھی کیا۔ لڑائی ختم ہونے کے بعد جب ہم صلح صفائی کروانے گئے تو دوران بات چیت ان کے شوہر اپنے والد کی لعن طعن سے ایک دم اشتعال میں آ گئے اور غصے میں یہ کہتے ہوئے کہ “ میں یہ گھر چھوڑ کے ہی چلا جاتا ہوں، اور پھر بہن سے مخاطب ہوئے کہ ‘” میری طرف سے آج سے آپ کی بھی چھٹی اور کل آپ کے کاغذات آپ کے گھر پہنچ جائیں گے” کمرے سے نکل گئے ۔ تھوڑی دیر بعد ان کو سمجھا بجھا کہ ان کا غصہ ٹھندا کیا گیا اور صلح کروا دی۔ لیکن خط کشیدہ الفاظ کے مطابق میرے دل میں ایک کھٹک سی ہے کہ یہ الفاظ غصے میں اور طلاق کے کنایے میں کہے گئے تھے تو مذکورہ صورت میں کیا یہ طلاق میں شمار ہوں گے؟

کیا یہ طلاق بائن ہو گی یا طلاق رجوعی؟

کیا اگر ایسے یا اس سے ملتے جلتے لفظ اگر دوران لڑائی اس سے پہلے بھی کئی بار جن کی تعداد کا بھی علم نہ ہو، کہے گئے ہوں تو کیا ان پر توبہ کرنی ہو گی؟

وہ غصے کے بہت تیز ہیں اور وہ ایک دفعہ پہلے بھی غصے میں میری بہن کو ایک طلاق دے چکے ہیں۔

برائے مہربانی اس کا جواب ایک دو دن میں عنایت فرما دیجیے تا کہ میں کسی گناہ کے ارتکاب سے پہلے ان میاں بیوی کو سمجھا سکوں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کا سوال کئی حصوں پر مشتمل ہے۔

1۔پہلی بات یہ ہے کہ آپ کے بہنوئی نے جو یہ الفاظ

‘” میری طرف سے آج سے آپ کی بھی چھٹی اور کل آپ کے کاغذات آپ کے گھر پہنچ جائیں گے”

کہے ،یہ طلاق کا کنایہ ہیں اور ان میں ان کی نیت کو دیکھا جائے گا ،اگر ان کی نیت ڈرانا تھی تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی اور ان کی نیت طلاق تھی تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی،کیونکہ اس نے یہ الفاظ ایک ہی مجلس میں کہے ہیں۔

2۔ اگر اس سے پہلے بھی وہ اسی طرح کے الفاظ کئی بار کہہ چکے ہیں تو ان کا حکم بھی وہی ہو گا جو اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ان سے ان کی نیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔اور اگر ہربار ہی ان کی نیت طلاق کی تھی تو پھر تین مرتبہ یہ واقعی ہوجانے کے بعد طلاق بائن ہو جائے اور اور ان میاں بیوی کا اکٹھے رہنا حرام ہوگا۔

3۔اگر اس سے پہلے وہ ایک طلاق دے چکے ہیں تو ان کے پاس اب دو اختیار باقی تھے،اب کنایہ طلاقوں میں ان کی نیت پر مبنی ہے کہ انہوں نے کس نیت سے یہ الفاظ کہے تھے۔ان کی نیت کے حساب سے باقی طلاقوں کا حکم لگایا جائے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ