نبی کریمﷺ کی قبر اور دیگر اولیاء وصالحین کی قبروں کے لئےسفر کا کیا حکم ہے؟
لماء کے صحیح قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ یا کسی بھی دوسرے انسان کی قبر کی زیارت کے قصد سے سفر کرناجائز نہیں کیونکہ نبی کریمﷺ کاارشاد گرامی ہے:
تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ مسجدالحرام، مسجدالاقصیٰ اور میری مسجد (یعنی مسجدنبوی)۔
جو شخص مدینہ سے دور ہو اور وہ نبی کریمﷺ کی قبر شریف کی زیارت کا ارادہ کرے تو اے چاہیے کہ وہ مسجد نبوی ﷺ کی زیارت کے لئے سفر کاارادہ کرلے تو اس طرح سے تبعاً رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف کی زیارت بلکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ شہداء رضوان اللہ عنہم اجمعین اور اہل بقیعرضوان اللہ عنہم اجمعین کی قبروں کی زیارت کاموقع بھی مل جائے گا۔
اگر مسجد نبوی اور قبرشریف دونوں کی زیارت کی نیت کرلے تو پھر بھی جائز ہے۔ کیونکہ بسا اوقات جو چیز مستقلاً جائز نہ ہو۔تو تبعاً جائز ہوجاتی ہے۔البتہ شد رحال کرکے صرف قبر شریف کی زیارت کی نیت جائز نہیں ہاں البتہ جو شخص قریب ہو اسے شد رحال کی ضرورت نہیں۔ اور نہ اس کا قبر شریف کی طرف جانا سفر کہلائےگا۔لہذا اس میں کوئی حرج نہیں لہذا شد رحال کے بغیر نبی کریمﷺ اور صاحبین کی قبروں کی زیارت سنت وقرب ہے اسی طرح شہداء رضوان اللہ عنہم اجمعین اہل بقیع رضوان اللہ عنہم اجمعین اور ہر جگہ مدفون مسلمانوں کی قبروں کی بغیر شدرحال کے زیارت سنت وقربت ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
''قبروں کی زیارت کیا کرو یہ تمھیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں''
اور نبی کریمﷺ حضرات صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کو قبروں کی زیارت کے وقت پڑھنے کے لئے یہ دعاسکھایا کرتے تھے:
‘‘اے (اس)بستی کے رہنے والے مومنواورمسلمانوں تم پر سلام ہو اوربےشک ہم بھی ان شاء اللہ تم سے عنقریب ملنے والے ہیں،ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے اورتمہارے لئے عافیت کی دعاکرتے ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب