سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(91) گھر سے بدشگونی لینے اور اسے منحوس خیال کرنے کا حکم

  • 836
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 1055

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے ایک گھر میں سکونت اختیار کی، جہاں وہ بہت سی بیماریوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوگیا جس کی وجہ سے وہ اور اس کے گھر والے اس گھر کو منحوس سمجھتے ہیں، تو کیا اس وجہ سے اس کے لیے اس گھر کو چھوڑنا جائز ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے ایک گھر میں سکونت اختیار کی، جہاں وہ بہت سی بیماریوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوگیا جس کی وجہ سے وہ اور اس کے گھر والے اس گھر کو منحوس سمجھتے ہیں، تو کیا اس وجہ سے اس کے لیے اس گھر کو چھوڑنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

بسا اوقات بعض گھر یا بعض سواریاں یا بعض بیویاں منحوس ہو سکتی ہیں جن کی رفاقت اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ساتھ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے یا جن کی وجہ سے منفعت ختم ہو سکتی ہے، لہٰذا اس گھر کو بیچ کر کسی دوسرے گھر میں منتقل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ ہو سکتا ہے جس نئے گھر میں وہ منتقل ہو اسے اللہ تعالیٰ باعث خیر و برکت بنا دے۔ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

« الشُّؤْمُ فِی ثَلَاثَةٍ فِی الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ»صحیح البخاری، الجهاد والسير، باب ما ذکر فی شوم الفرس، ح:۲۸۵۸ وصحیح مسلم السلام، باب الطيرة والفال وما یکون فيه الشوم، ح: ۲۲۲۵۔

’’بدشگونی صرف تین چیزوں: گھوڑے، عورت اور گھر میں ہے۔‘‘

یعنی بعض سواریوں، بعض بیویوں اور بعض گھروں میں بدشگونی ہو سکتی ہے۔ اگر انسان اس طرح کی کوئی چیز دیکھے تو جان لے کہ یہ اللہ عزوجل کی تقدیر کے ساتھ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی حکمت کے اسے مقدر کیا ہے تاکہ انسان کسی دوسری جگہ منتقل ہو جائے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائدکےمسائل:صفحہ166

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ