سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(84) نجومی اور کاہن سے سوال پوچھنا جائز نہیں

  • 8343
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-30
  • مشاہدات : 1320

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرے والد نفسیاتی مریض ہیں۔ان کا مرض بہت طول اختیار کرگیا ہے۔کئی بار ہم نے انہیں ہسپتال میں بھی داخل کروادیا ہے۔ اب بعض قریبی رشتہ داروں نے یہ کہا ہے کہ ہم اسے فلاں عورت کے پاس لے جایئں کہ وہ اس طرح کی بیماریوں کا علاج جانتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمیں اس عورت کو صرف مریض کا نام بتانا ہوگا اور وہ یہ بتادےگی کہ ان کی بیماری کیا ہے۔اور اس کا علاج کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس عور ت کے پاس جانا ہمارے لئے جائز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے والد نفسیاتی مریض ہیں۔ان کا مرض بہت طول اختیار کرگیا ہے۔کئی بار ہم نے انہیں ہسپتال میں بھی داخل کروادیا ہے۔ اب بعض قریبی رشتہ داروں نے یہ کہا ہے کہ ہم اسے فلاں عورت کے پاس لے جایئں کہ وہ اس طرح کی بیماریوں کا علاج جانتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمیں اس عورت کو صرف مریض کا نام بتانا ہوگا اور وہ یہ بتادےگی کہ ان کی بیماری کیا ہے۔اور اس کا علاج کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس عور ت کے پاس جانا ہمارے لئے جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس عورت اور اس جیسی دیگر عورتوں کے پاس جانا ان سے سوال کرنا ان کی تصدیق کرنا جائز نہیں  ہے کیونکہ یہ عورتیں ان نجومیوں اور کاہنوں سے  تعلق رکھتی ہیں۔جو علم غیب کے مدعی ہیں۔اور علاج کرنے اور خبریں بتانے میں مدد لیتے ہیں ۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

من اتي عرافا  فساله عن شئي لم  تقبل له صلواة اربعين ليلة

(صحیح مسلم کتاب السلام باب تحریم الکھانۃ واتیان الکھان ح:2230۔واحمد فی المسند 4/68۔5/380)

''جس شخص نے کسی نجومی کے پاس جا کر کچھ پوچھا تو ا  س کی چالیس روز تک نماز قبول نہ ہوگی۔''

نیز آپ ﷺ نے فرمایا۔

من اتي كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما انزل علي محمد صلي الله عليه وسلم

(سنن ابی دائود کتاب الطب باب فی الکھان ح:3904)واخرجہ الترمذی فی الجامع رقم 135 وابن ماجۃ فی السنن رقم:639 واحمد فی المسند 2/408۔476)

''جو شخص کسی کاہن ونجومی کے پاس کوئی سوال پوچھنے کے لئے جائے اور پھر اس کے جواب کی تصدیق بھی کرے تو اس نے اس شریعت کا انکار کیا جسے محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔''

اس مفہوم کی اور بھی بہت سی احادیث ہیں۔لہذا واجب ہے۔کہ ان لوگوں کا اور ان کے پاس آنے والوں کا انکار کیا جائے۔نہ ان سے کوئی سوال پوچھا جائے۔ نہ ان کی تصدیق کی جائے بلکہ ان کا معاملہ حکمرانوں تک پہنچانا چاہیے  تاکہ انہیں وہ سزا دی جائے۔جس کے یہ مستحق ہیں۔کیونکہ انھیں چھوڑنے اور اور حکام کو ان کے بارے میں مطلع نہ کرنے میں معاشرے کا نقصان ہے۔ اور جاہل لوگوں کے دھوکا کھانے میں معاون بننا ہے۔کہ وہ دھوکا فریب کی وجہ سے  ان سے سوال بھی کریں گے اور ان کی تصدیق بھی کریں گے اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

من راي منكم فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسمائه فان لم يستطع فبقلبه وذلك اضعف الايمان(صحيح مسلم ...تزمذي...مسند احمد )

''تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے مٹادے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے سمجھائے اور اگر اس  کی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔''

بلاشک وشبہ حکمرانوں مثلا امیر شہر یا محکمہ امر بالمعروف یا عدالت میں ان کی شکایت زبان سے اس بُرائی کو روکنے کے مترادف ہوگی اور یہ نیکی اور تقویٰ میں تعاون ہوگا ۔اللہ تعالیٰ ٰ مسلمانوں کو توفیق بخشے کہ وہ نیکی وسلامتی کو اختیار کریں اور ہر بُرائی سے بچیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ