سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(83) کیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا؟

  • 8342
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-30
  • مشاہدات : 781

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ابلیس۔۔۔لعنۃ اللہ ۔۔۔فرشتوں میں سے ہے یا کسی دوسری جنس سے؟ اور اگر وہ کسی دوسری جنس سے ہے تو پھر ارشاد باری تعالیٰ ٰ:

﴿فَسَجَدَ المَلـئِكَةُ كُلُّهُم أَجمَعونَ ﴿٣٠ إِلّا إِبليسَ...٣١﴾... سورة الحجر

''ابلیس کے سوا تمام فرشتوں نے سجدہ کیا''میں استثناء کی کیا توجیہ ہوگی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ ٰ کی مخلوق میں سے ایک جنس ہیں۔''جنھیں اللہ تعالیٰ ٰ نے نور سے پیدا فرمایا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ٰ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے۔ اسے فوراً کر گزرتے ہیں۔ ابلیس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ٰ نے یہ فرمایا کہ وہ جنوں میں سے تھا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:

﴿وَإِذ قُلنا لِلمَلـئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ كانَ مِنَ الجِنِّ فَفَسَقَ عَن أَمرِ‌ رَ‌بِّهِ...٥٠﴾... سورة الكهف

''اور جب ہم نے  فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردیگار کے حکم سے باہر ہوگیا(یعنی اس کی نافرمانی کی)۔''

حضرت آدم علیہ السلام  کو جو اس نے سجدہ نہ کیا تو اس کا جواز یہ  پیش کیا تھا کہ:

﴿قالَ أَنا۠ خَيرٌ‌ مِنهُ خَلَقتَنى مِن نارٍ‌ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ ﴿٧٦﴾... سورة ص

''تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا۔''

ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:

﴿فَسَجَدَ المَلـئِكَةُ كُلُّهُم أَجمَعونَ ﴿٣٠ إِلّا إِبليسَ...٣١﴾... سورة الحجر

''تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے''

میں استثناء منقطع ہے۔جیسے کہ کوئی یہ کہے ۔جاء القوم الا جمارا''گدھے کے سوا  ساری قوم آئی''بعض اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ ابلیس لعنۃ اللہ جنس ملائکہ سے تھا۔لیکن اس نے نافرمانی کی اور جب تمرود عصیان(سرکشی اور نافرمانی) پر اصرار کیا تو قیامت تک اللہ تعالیٰ ٰ کی لعنت کا مستحق قرار پایا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ