سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(76) جس حجرہ میں قبریں ہوں اس میں نماز جائز نہیں

  • 8335
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-28
  • مشاہدات : 630

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے ان بعض لوگوں سے جھگڑا کیا جو قبرستان میں نماز کے جواز کافتویٰ دیتے ہیں۔اور اس مسجد میں بھی نماز پڑھنا جائز قرار دیتے ہیں۔ جس میں قبر یا قبریں ہوں۔ میں نے صحیح اور صریح احادیث کے ساتھ ان کے شبہات کا رد کیا لیکن انہوں نے میرے جواب میں یہ کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ حضرت  عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  کے گھر میں دفن ہوئے تو پھر وہ کہا ں نماز پڑھتی تھیں؟سوال یہ ہے کہ کیا آپ ﷺ کی قبر شریف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  کے گھر کے اندر تھی یا باہر؟نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین  نے مسجد حرام میں بھی نمازیں پڑھی ہیں۔حالانکہ وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی زوجہ سیدہ ہاجرہرضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  اور بعض انبیاء علیہ السلام  مدفون ہیں۔تو کیا ان کی یہ بات صحیح ہےکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  رسول اللہ ﷺ کی تدفین کے بعد حجرہ میں نماز پڑھتی رہیں ار مسجدحرام میں حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  اور بعض انبیاء کرام علیہ السلام  کی قبریں ہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا:

لعن الله اليهود والنصاريٰ اتخذوا قبور انبيائهم مساجد (صحيح بخاري)

''اللہ تعالیٰ ٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے نبیوں علیہ السلام  کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا تھا۔''

حضرت عائشہ             رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  بیان فرماتی ہیں۔

يحذر ما صنعوا ولولا ذلك لا برز قبره ولكن ان يتخذ مسجدا (صحيح البخاري...صحيح مسلم)

''آپﷺ کے اس بیان فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنی  امت کو ایسا کرنے سے ڈرا رہے تھے۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ ﷺ کی قبر کو بھی نمایاں کیا جاتا لیکن آپﷺ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ آپﷺ کی قبر کو مسجد بنایاجائے۔''

ایک روایت میں ہے:

ولكن خشي ان يتخذ مسجدا

''آپ کو اس بات سے ڈر ے کہ آپ کی قبر کو مسجد بنا لیا جائے۔''

بخاری کی روایت میں الفاظ یہ ہیں:

غير اني اخشي ان يتخذا(بخاري)

''میں اس با ت سے ڈرتا ہوں کہ میری قبر کو مسجد نہ  بنالیا جائے۔''

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قبروں پر بنی ہوئی مسجدوں میں نماز پڑھنا ناجائز اور انہیں بنانا حرام ہے سوال میں سائل نے جو یہ پوچھا ہے۔کہ رسول اللہﷺ کےحضرت عائشہرضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  کے گھر میں دفن ہونے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  نمازیں کہاں پڑھا کرتی تھیں؟اور کیا آپ ﷺ کی قبر گھر کے اندر تھی یاباہر؟تو اس کاجواب یہ ہے کہ حضرت عائشہرضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  ہی ان صحیح احادیث کی راوی ہیں۔جن میں رسول اللہﷺ نے قبروں کو مسجدیں بنانے سے منع فرمایا ہے۔ اور یہ بھی اللہ عزوجل کی حکمت ومصلحت ہے کہ ان احادیث کی راوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  ہیں۔لہذا اس سے معلوم ہوا  کہ وہ اس حجرہ میں قطعاً نمازیں نہ  پڑھتی تھیں۔جن میں قبریں تھیں کیونکہ اگر وہ اس حجرے میں نماز پڑھتیں تو ان احادیث کی مخالف لازم آتی۔جنھیں انھوں نے خود رسول اللہﷺ سے روایت کیا ہے۔اور یہ آپ کے شایان شان نہ تھی باقی رہی یہ بات کہ حضرت حاجرہعلیہ السلام  یا بعض انبیاءعلیہ السلام  مسجد حرام میں مدفون ہیں۔ تو ا  س کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ