سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(75) کیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ کیلئے خلافت کی وصیت کی تھی؟

  • 8334
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-28
  • مشاہدات : 2126

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے۔جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کے لئے خلافت کی وصیت کی لیکن صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  نے ان کے خلاف سازش کی تھی ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شیعہ فرقہ کے سوا مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں سے کسی کا بھی یہ قول نہیں ہے۔اور یہ ایک باطل قول ہے۔رسول اللہ ﷺ کی احادیث صحیحہ سے اس کا قطعا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بلکہ بہت سے دلائل سے یہی ثابت ہے۔کہ آپﷺ کے بعد خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  ہوں گے۔۔۔اللہ تعالیٰ ٰ ان سے اور دیگر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین  سے راضی ہوں۔۔۔لیکن رسول اللہﷺ سے اس مسئلہ میں کوئی نص صریح ثابت ہے۔نہ آپ نے اس کےلئے کوئی قطعی وصیت فرمائی ہے ہاں البتہ آپﷺ کے کچھ ارشادات سے اس سلسلہ میں راہنمائی ضرور ملتی ہے۔جیسا کہ آپ ﷺ نے مرض الوفات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کی نماز میں امامت کریں۔جب آپﷺ کے بعد امر خلافت کازکر ہوا تو فرمایا:

يابي الله والمومنون الا ابا بكر رضي الله عنه(صحيح البخاري)

''اللہ تعالیٰ ٰ اور مومن ابو بکر کے سوا ہر کسی کا انکار کرتے ہیں۔''

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کی بیعت کی بعیت کرنے والوں میں خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  بھی تھے۔تمام صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کا اس بات پراتفاق تھا۔ کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  ان سب سے افضل ہیں۔حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  میں ہے۔کہ حضرات صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  نبی ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں یہ کہا کرتے تھے:

خير هذه الامه بع نبيها ابو بكر ثم عمر ثم عثمان (صحيح البخاري )

''نبی کریمﷺ کے بعد اس امت کے سب سے بہترین انسان حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  ہیں۔''

نبی کریمﷺ بھی صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کی اس بات کی  تایئد فرماتے۔حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  سے بھی متواتر احادیث سے ثابت ہے۔

خير هذه الامه بعد نبيها ابو بكر ثم عمر(صحيح البخاري )

''نبی اکرم ﷺ کے بعد اس اُمت کے سب سے بہترین شخص ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  اور پھر ان کے بعد عمر فاروقرضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  ہیں۔''

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  یہ بھی فرمایا کرتےتھے:

لااوتي باحد يفضلني عليهما الا جلدته حد المفتري

''اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابوبکررضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  اور عمررضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  س افضل قرار  دے تو میں اسے تہمت کی حد کے مطابق کوڑے لگائوں گا۔''

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں  فرمایا تھا۔کہ وہ امت کے سب سے افضل انسان ہیں۔اور نہ کبھی یہ دعویٰ کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کےلئے خلافت کی وصیت فرمائی تھی۔او ر نہ یہ کہا کہ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  نے ان پر ظلم کیا۔اور ان سے ان کا حق چھین لیا تھا۔حضرت  فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا  کے انتقال کے بعد انہوں نے پہلی بیعت کی تاکید کے لئے دوبارہ بیعت کی تاکہ لوگوں کے سامنے اس بات کا اظہار کرسکیں کہ وہ جماعت ہی کے ساتھ ہیں۔ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کی بیعت کے بارے میں ان کے دل میں کوئی بات نہیں  ہے۔جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  زخمی ہوئے اور انہوں نے اپنے بعد خلافت کے فیصلہ کے لئے عشرہ مبشرہ (وہ دس عظیم انسان جن کو زندگی میں ہی جنت کی خوشخبری دے دی گئی تھی) میں سے  چھ آدمیوں کی مجلس شوریٰ بنادی اور  اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  بھی ان میں سے ایک تھے۔تو  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  نے  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  سے اس مسئلہ میں ان کی زندگی میں کوئی اختلاف کیا تھا نہ ان کی وفات کے بعد اور نہ یہ کہا کہ وہ ان سب سے افضل ہیں۔

ان سب دلائل کے ہوتے ہوئے یہ کسی کے لئے جائز نہیں۔کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف یہ جھوٹی بات منسوب کرے۔ کہ آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کےلئے خلافت کی وصیت کی تھی۔جب کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کبھی بھی اس کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ صحابہ کرا مرضوان اللہ عنہم اجمعین  میں سے بھی کبھی کسی نے اس کادعویٰ نہیں کیا تھا۔ بلکہ تمام صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کا اجماع تھا۔کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  حضرت عمر فاروقرضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  اور حضرت عثمان زی النورین رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کی خلافت صحیح تھی۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کو بھی ان کی خلافت صحیح ہونے کا اعتراف تھا۔آپ نے جہاد اور شوریٰ کےمسائل میں ان سے پورا پورا تعاون بھی کیا ۔پھر صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے بعد تمام مسلمانوں کابھی اس پر اجماع تھا جس پر صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کا اجماع تھا۔لہذا اس کے بعد کسی فرد یا کسی جماعت کے لئے خواہ وہ شیعہ ہو یاکوئی اور یہ دعویٰ کرنا جائز نہیں۔کہ حضرت علیرضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  وصی ہیں۔اور ان سے پہلے خلفاء کی خلافت باطل ہے۔اسی طرح کسی کے لئے یہ کہنابھی جائز نہیں کہ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  پر ظلم کیا اور ان کا حق چھین لیا کیونکہ یہ بات سب سے زیادہ باطل اور ان حضرات صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے بارے میں سوء ظن (بُرا گمان ہےجن میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  بھی شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ ٰ نے امت محمدیہ کو اس بات سے پاک رکھا اور اس کی حفاظت فرمائی ہے کہ یہ کبھی ضلالت پر جمع ہوجائے۔بہت سی احادیث میں رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد  گرامی بھی موجود ہے:

لاتزال طائفة من امتي منصورين(جامع ترمذي)

''میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر کامیاب رہے گا۔''

لہذا یہ بات محال ہے کہامت اپنے اشرف  ترین دور میں باطل پر  جمع ہوجائے۔ کیونکہ شیعہ کے بقول حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  کی خلافت باطل ہے۔حالانکہ اس طرح کی بات صرف وہی شخص کہہ سکتاہے۔ جس کا اللہ تعالیٰ ٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہ ہو۔جس شخص کو اسلام کے بارے میں ادنیٰ سی بھی بصیرت حاصل ہو وہ ایسی بات نہیں کہ سکتا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ