سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(74) قرآن مجید کی تلاوت کی اجرت جائز نہیں جب کہ تعلیم کی اجرت جائز ہے

  • 8333
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-28
  • مشاہدات : 1569

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں مغرب میں بعض حافظ بظا ہر مال کمانے کے لئے  تلاوت کرتے ہیں۔جب بھی ان کے لئے محفل قائم کی جائے تو اس میں شرکت کرتے اور الفاظ پر غور اور احترام تلاوت کے بغیر قرآن مجید پڑھتے ہیں۔اس طرح کی محفل میں حاضر ہونے سے ان کا بڑا مقصد اجرت لینا اور لوگوں سے صدقات وخیرات وصول کرنا ہوتاہے ان صدقات وخیرات کو  جمع کرکے یہ آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں اور کسی فقیر ومسکین کو اس میں سے کچھ نہیں دیتے۔

سوال یہ ہے کہ اسلامی شریعت کی روشنی میں ان صدقات کا کیا حکم ہے۔جسے یہ آپس میں  تقسیم کرنے کےلئے جمع کرتے اور اس مقصد کے لئے  تلاوت کو استعمال کرتے ہیں۔؟ میں نے ایک کتاب میں نبی کریمﷺ کی یہ حدیث پڑھی تھی۔کہ ''جس نے مال کمانے کے لئے قرآن استعمال کیا تو وہ  قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ ہڈی کی طرح ہوگا''یعنی گوشت سے  خالی ہوگا۔ تو کیا یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں؟نیز یہ  فرمائیں کہ اس آیت کریمہ :

﴿قُل ما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ‌ وَما أَنا۠ مِنَ المُتَكَلِّفينَ ﴿٨٦﴾... سورة ص

کے کیا معنی ہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اولاً؛تلاوت قرآن محض عبادات اور ایک ایسا زریعہ ہے۔ جس سے بندہ اپنے  رب کا تقرب حاصل کرتا  ہے۔ اور عبادات کے سلسلے میں اُصول یہ ہے کہ انھیں مسلمان محض اللہ تعالیٰ ٰ کی  رضا کے لئے سر انجام دے اور ان کے ثواب کی اللہ  تعالیٰ ٰ ہی سے ا ُمید رکھے۔    مخلوق سے اس کے صلہ وشکریہ کی اُمید نہ رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالح کا محفلوں اور مجلسوں میں قرآن پڑھ کر اُجرت وصول کرنے کا طریقہ نہ تھا۔ نہ آئمہ دین میں سے کسی سے منقول ہے۔ کہ انھوں نے اس کا حکم دیا ہو۔ اس کی رخصت دی ہو اور نہ ہی یہ ثابت ہے۔کہ ان میں سے کسی نے بھی تلاوت قرآن کی اجرت وصول کی ہو۔نہ کسی خوشی کے موقع پر اور نہ کسی غم کے موقعہ پر بلکہ وہ تو محض اللہ تعالیٰ ٰ سے حصول ثواب کی خاطر  تلاوت  کیا کرتے تھے۔نبی کریمﷺ نے بھی یہی حکم دیا ہے۔کہ جو شخص تلاوت کرے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ٰ ہی سے سوال کرے۔ لوگوں سے سوال کرنے سے آپﷺ نے منع فرمایا ہے۔حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  سے روایت ہے۔کہ ان کا  گزر ایک قصہ گو کے  پاس سے ہوا جو قرآن پڑھ کرسوال کررہا تھا آ پ نے ''اناللہ وانا الیہ راجعون'' پڑھا اور کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:

من قراء القرآن فليسال الله به فانه سيجيء اقوام يقرءون القرآن يسالون به  الناس (جامع  ترمذي...مسند احمد.)

’’جو شخص قرآن پڑھے تو وہ اللہ تعالیٰ ٰ ہی سے سوال کرے۔ عنقریب کچھ لوگ ایسے بھی آئیں گے جو قرآن پڑھ کرلوگوں سے سوال کریں گے۔''

باقی رہا قرآن کی  تعلیم یا اس کے ساتھ دم کرکے اجرت لینا یا کوئی ایسا عمل جس کا نفع غیرقاری تک بھی پہنچے تو صحیح احادیث سے اس کا جواز ثابت ہے۔جیسا کہ حدیث ابو سعید میں ہے کہ  ایک آدمی نے سورت  فاتحہ کے ساتھ دم کرکے شفاءحاصل ہونے پر مریض سے بطور اجرت بکریوں کا ایک ریوڑ لیا تھا اور حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک آدمی کی ایک عورت سے شادی کےلئے مہر یہ مقر ر کیا کہ اسے جس قدر قرآن یاد ہے وہ عورت کوبھی یاد کرادے۔لیکن جو شخص نفس تلاوت پر اجرت لیتا ہے۔یا تلاوت کرنے والوں کی ایک جماعت کو اجرت پر بلاتا ہے تو وہ سلف صالح کے اجماع کے خلاف کرتا ہے۔

ثانیاً! قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔مخلوق کے کلام پر اس کی فضیلت اسی طرح ہے جس طرح خود اللہ تعالیٰ ٰ کو اپنے بندوں پر فضیلت حاصل ہے۔تلاوت قرآن مجید تمام اذکار سے بہترین اورافضل ترین ہے لہذا تلاوت کرنے والے کوچاہیے کہ وہ بادب ہوکر خشوع وخضوع اور اخلاص کے ساتھ حسن انداز میں  حسب قدرت معانی پر غور کرتے ہوئے تلاوت کرے۔تلاوت کی بجائے دیگر اذکار کا شغل اختیار نہ کرے۔نہ  تکلف  وتصنع(بناوٹ) سے کام لے۔اور نہ ضرورت سے زیادہ آواز بلند کرے۔جولوگ تلاوت قرآن کی مجلس میں حاضر ہوں۔انہیں چاہیے کہ خاموشی کے ساتھ  تلاوت کو سنیں اور معانی پرغور کریں کوئی لغو کام کریں نہ تلاوت کے وقت دوسروں کے ساتھ باتیں کریں اور نہ قاری اور حاضرین مجلس کو تشویش میں ڈالیں ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:

﴿وَإِذا قُرِ‌ئَ القُر‌ءانُ فَاستَمِعوا لَهُ وَأَنصِتوا لَعَلَّكُم تُر‌حَمونَ ﴿٢٠٤﴾... سورة الاعراف

‘‘اور جب قرآن پڑھا جائے توتوجہ سے سناکرو اورخاموش رہا کروتاکہ تم پر رحم کیا جائے۔اور اپنے پروردیگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آوازسے صبح شام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا۔''

ثالثاً! لوگ فکروفہم کے اعتبار سےمختلف ہوتے ہیں۔ ہر مکلف پر فرض ہے کہ وہ دین اور احکام شریعت کو اللہ تعالیٰ ٰ کے عطا کردہ فہم ووسعت وقت کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرے تاکہ  خود عمل کرسکے اور دوسروں کی  رہنمائی کرسکے سب سے پہل جسے سمجھنا جس کی طرف مائل ہونا۔اور جس کی طرف سے دل سے متوجہ ہونا ضروری ہے۔وہ اللہ کی کتاب ہے قرآن کے جس مقام کو خود نہ سمجھ سکے اس کے سمجھنے کےلئے اللہ تعالیٰ ٰ سے استعانت (مدد طلب) کرے اور پھر حسب طاقت وقدرت علماء سے مدد لے اور اگر اس کے باوجود کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ٰ انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔مقدور بھر کوشش کے باوجود اگر کوئی شخص قرآن کونہ سمجھ سکے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ تلاوت کرنا بھی چھوڑ دے۔ مقدور بھر کوشش کے باوجود نہ سمجھ سکنا معیوب نہیں کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

الماهر في القرآن مع السفرة الكرام البررة والذي يقراء القرآن ويتمتع فيه وهو عليه شاق  له اجران(صحيح مسلم...مسند احمد)

''قرآن کا ماہر معزز ونیکوکار فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے۔اس میں اٹکتا ہے۔اور وہ اس پر گراں گزرتا ہے تو اسے دوگنا اجر وثواب ملتا ہے۔''

رابعاً!فقیر کے لئے یہ جائز ہے۔ کہ وہ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی ضرورت کے مطابق صدقہ لے سکتا ہے صدقہ کرن والے کے لئے دعائے خیر کرنا مسنون ہے۔لیکن قرآن کی تلاوت کرکے اجرت لینا یا وعظ ونصیحت کرکے مال ووصول کرنا یا برکت کی اُمید سے کسی کو مال دینا یا حصول برکت کےلئے کچھ لوگوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے۔ابتدائی تین صدیوں میں جنھیں رسول اللہ ﷺ نے خیر القرون قرار دیا ۔مسلمانوں میں ا س طرح کا کوئی رواج نہ تھا۔

خامساً!ارشاد باری تعالیٰ ٰ:

﴿قُل ما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ‌ وَما أَنا۠ مِنَ المُتَكَلِّفينَ ﴿٨٦﴾ سورة ص

((اے پیغمبر)کہہ دوکہ میں تم سےاس کا صلہ نہیں  مانگتااورنہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔)

کے معنی یہ ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ ٰ  نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو یہ حکم دیا کہ آپ اپنی قوم کو یہ بتادیں کہ آپ انھیں اللہ کی طرف سے نازل کردہ دین وشریعت کی جو تبلیغ کرتے ہیں۔اور انھیں توحید خالص اور دیگر تمام احکام اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔تو اس پر ان سے کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتے۔بلکہ    آپ یہ کام اللہ تعالیٰ ٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی رضا کے حصول کےلئے کرتے ہیں۔ اور اجر وثواب کی امید صرف اور صرف اللہ سے رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ٰ نے یہ اعلان آپﷺ سے یہ اعلان اس لئے بھی کروایا تاکہ آپ مشرکوں کے ان اوہام اور ظنون کاذبہ کا ازالہ فرمادیں۔کہ رسول انہیں اپنی اتباع کی اس لئے دعوت دیتا ہے ککہ اس کے زریعہ وہ مال کمانا چاہتا ہے یاقوم کی سربراہی چاہتا ہے لہذا آپ نے ان کے  سامنے یہ واضح  فرمادیا کہ آپ انھیں حق کی دعوت محض اللہ تعالیٰ ٰ کی رضا کےلئے دیتے ہیں۔

اسی طرح دیگر تمام انبیاء کرام علیہ السلام  نے بھی اپنی اپنی قوموں کو جو دعوت دی تو اس پر لوگوں سے کسی قسم کی اجرت کا سوال نہیں کیا تھا۔ا س جواب کے پہلے فقرہ میں حدیث عمران بن حصین کے حوالہ سے یہ زکر کیا جاچکا ہے۔کہ قرآن کو کمائی کا زریعہ بنانا اورقرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کرنا منع ہے۔باقی  رہا یہ سوا ل کے مانگنے والے کے منہ پر قیامت کے دن گوشت نہ ہوگا۔تو یہ وعید ہر اس شخص کے لئے ہے۔جو کسی اضطراری حالت کے بغیر لوگوں سے مانگتا ہے خواہ وہ قراءت قرآن کے  حوالہ سے مانگے یا اس کے بغیر مانگے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  سےر وایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

لاتزال المسالة باحدكم حتي يلقي الله وليس في وجهه مزعة لحم(صحيح مسلم كتاب الذكواةومسند اهمد)

''سوال تم میں سے کسی ایک کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔حتیٰ کہ جب  وہ اللہ تعالیٰ ٰ سے ملاقات کرے گا۔تو اسکے چہر ے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔''

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔

ما يزال الرجل يسال الناس حتي ياتي يوم القيامه  وليس في وجهه مزعة لحم(صحيح البخاري كتاب الذكواة صحيح مسلم كتاب الذكواة)

''آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے۔حتیٰ کہ جب وہ قیامت کے دن آئےگا تو اس کے منہ پرگوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔''

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  سے روایت ہے:

 من سال الناس اموالهم تكثرا فانما يسال جمرا فليستقل او ليستكثر(صحيح مسلم كتاب الزكواة... سنن ابن ماجه... مسند اهمد )

''جو شخص اپنے پاس زیادہ مال جمع کرلینے کی غرض سے لوگوں سے  سوال کرتا ہے تو وہ آگ کے انگاروں کاسوال کرتا ہے۔ اب چاہے ان کو کم کرلے یازیادہ کرلے۔''

جو آدمی لوگوں سے قرآن کے حوالے  سے مانگتا ہے۔ اگر فقیر ہے تو حدیث عمران کے مصداق ار اگر صاحب دولت ہے تو وہ ان  تمام احادیث کے مصداق ہے۔ سوال میں مذکور حدیث کےالفاظ ہمارے علم کی حد تک کسی صحیح حدیث میں نہیں ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ