سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(52) قرآن کے ساتھ علاج کا حکم

  • 8311
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-27
  • مشاہدات : 686

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قرآن مجید کے ساتھ علاج کرنے اورتعویز وغیرہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن مجید کے ساتھ علاج کرنے اورتعویز وغیرہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن مجید کے ساتھ علاج جائز ہے۔کیونکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ  سے روایت ہے فرماتے ہیں۔

انطق نفر من اصحاب النبي صلي الله عليه وسلم في  سفرة سافروها حتي نزلوا علي حي من احياء العرب فاستضافوهم فابوا ان يضيفوهم فلدع سيد ذلك الحي فسعوا له بكل شئي لا ينفعه شي فقال بعضهم لو اتيتم هئولاء الرهط الذين نزلوا لعلهم ان يكون عند بعضهم شي فاتوهم فقالو يا ايها الرهط ان سيدنا لدغ وسعينا لي بكل شئي لا ينفعه شي فهل عنداحد منكم من شئي ؟ فقال بعضهم نعم والله اني لارقي ولكن استضفناكم فلم تضيفونا فما انا براق حتي تجعلوا لنا جعلا فصالحو هم علي قطيع من الغنم فانطلق يتفل عليه ويقرا الحمد لله رب العالمين فكانما نشط من عقال فانطلق يمشي وما به قلبه قال فاوفوهم جعلهم الذي صالحوهم عليه فقال بعضهم اقتسموا فقال الذي رقي: لاتفعلوا حتي ناتي رسول الله   صلي الله عليه وسلم فتذكرله الذي كان فننظر ما يامرنا فقدموا علي النبي صلي الله عليه وسلم فذكروا له ذلك فقال : وما  يدريك انها رقية ثم قال لقد اصبتم اقتسموا واضربوا لي معكم سهما
(صحیح البخاری کتاب الاجارۃ باب ما یعطی فی الرقیۃ علی احیا العرب بفاتحۃ الکتاب ح: 227 صحیح مسلم کتاب السلام باب جواز اخذ الاجرۃ علی الرقیۃ بالقرآن والاذکار ح:2201 سنن ابو دائود رقم 3418 واخرجہ الترمذی فی الجامع رقم : 3063 ۔2064 وابن ماجہ فی السنن رقم : 2156 واحمد فی المسند  رقم : 3/10'44)

صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کی ایک جماعت سفر میں تھی حتیٰ کہ وہ ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان سے (عربوں کےدستور کے مطابق) مطالبہ کیا کہ وہ ان کی مہمان نوازی کریں لیکن انہوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے  انکار کردیا ادھر اس قبیلے کے سربراہ کو بچھو نے ڈس لیا۔تو انھوں نے اس کے علاج کے لئے ہر کوشش کردیکھی۔لیکن اسے کچھ فائدہ نہ ہوا۔تو بعض نے کہا کہ اس کے آنے والے قافلے کے لوگوں سے پوچھ لیتے ہیں شاید ان کے پاس کوئی چیز ہو۔تو وہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے۔اے قافلہ والو! ہمارے سردار کو بچھو نے ڈس لیا ہے ۔اور ہم نے ہر جتن کردیکھا ہے۔لیکن اسے کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوا۔کیا تم میں سے کسی کے پا س کوئی چیز ہے۔؟ان میں سے ایک نے کہا''اللہ کی قسم '' میں دم کرتا ہوں۔لیکن بات یہ ہے کہ ہم نے تم سے مہمان نوازی کا مطالبہ کیا تم نے ہماری مہمان نوازی نہ کی لہذا میں تو اس وقت دم نہ کروں گا۔جب تک تم  اس کی مذدوری نہ دو گے۔

بکریوں کے ایک ریوڑ پر سمجھوتا ہوگیا۔اور یہ شخص گیا اور اس نے اس کے پاس جا کر ''الحمدللہ رب العالمین'' کو پڑھنا اور اس کے ساتھ سے دم کرنا شروع کردیا۔ تو وہ یوں ہوگیا گویا اسے رسی سے کھول دیا گیا ہو۔ اور پھر بالاخر مکمل صحت یاب ہوگیا۔تو انہوں نے وہ مذدوری دے دی۔جس پر سمجھوتا ہوا تھا۔اب ان میں سے بعض نے کہا ہم ان بکریوں کو تقسیم کرلیں گے۔لیکن جس نے دم کیا تھا۔ اس نے کہا نہیں ابھی تقسیم نہ کرو حتیٰ کہ ہم نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ یہ سارا واقعہ بیان کریں اور پھر دیکھیں گے کہ آپ کیا حکم دیتے ہیں۔یہ سب لوگ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا تو آپ نے  فرمایا:''تمھیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے۔؟''پھر فرمایا:تم نے ٹھیک کیا ہے بکریوں کو آپس میں  تقسیم کرلو اور ان میں میرا حصہ بھی رکھو۔''

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ علاج کرنا شرعا جائز ہے۔لیکن علماء کے صحیح قول کے مطابق قرآن مجید کو بطور تعویز استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ