سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(187) وترپڑھنے کا ٹائم اور ثواب

  • 83
  • تاریخ اشاعت : 2011-10-17
  • مشاہدات : 582

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا باجماعت وتر پڑھنے کا ثواب پوری رات قیام کے برابر ہے۔ ؟ نماز تراویح ادا کرنے کے بعد صرف وتر تھوڑی دیر سو لینے کے بعد سحری ٹائم ادا کرنا درست عمل ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

باجماعت تراویح اور وتر پڑھنے والے کو پوری رات قیام کا ثواب ملتا ہے۔

 شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ اس بارے ایک سوال کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

سوال ؛ جس نے پہلے امام كےساتھ نماز تراويح ادا كيں اور چلا گيا وہ كہتا ہے حديث كى نص كےمطابق مجھے پورا ثواب حاصل ہوگا، كيونكہ ميں نے امام كےساتھ شروع كيں اور امام كے ساتھ ہى ختم كر ديں ؟

شيخ كا جواب تھا:

اس شخص كا يہ كہنا كہ جس نےامام كےفارغ ہونے تك امام كے ساتھ قيام كيا تو اس كے ليے پورى رات كا ثواب لكھا جاتا ہے " تو اس كى يہ بات صحيح ہے.

ليكن كيا ايك ہى مسجد ميں دو امام ہوں اور ہر امام مستقل ہو، يا پھر ہر ايك امام دوسرے كا نائب ہے ؟

ظاہر دوسرا احتمال ہوتا ہے ـ ہر ايك دوسرے كا نائب ہے اور اس كے ليے مكمل كرنےوالا ہے ـ اس بنا پر اگر كسى مسجد ميں دو امام نماز تراويح پڑھاتے ہوں تو وہ ايك ہى شمار ہونگے، اس ليے دوسرے امام كے فارغ ہونے تك انسان وہى رہے كيونكہ ہميں يہى علم ہے كہ دوسرى پہلى نماز تكميل ہے.

اس ليے ہم اپنے بھائيوں كو يہى نصيحت كرتے ہيں وہ يہاں حرم ميں آخر تك امام كے ساتھ نماز ادا كريں، اور اگر كچھ بھائى گيارہ ركعات ادا كر كے چلے جاتے ہيں اور كہتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اتنى ركعات ہى ادا كى ہيں، ہم اس مسئلہ ميں اس كے ساتھ كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے گيارہ ركعات ہى ادا كى ہيں اور يہى افضل ہے كہ گيارہ پڑھى جائيں اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں ہے.

ليكن ميرى رائے ميں اس سے زائد ادا كرنےميں كوئى مانع نہيں، اس بنا پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جو تعداد اختيار كى ہے اس سے بےرغبتى كرتے ہوئے نہيں بلكہ صرف اس ليے كہ يہ خير وبھلائى ہے جسميں شريعت نے وسعت ركھى ہے.

ليكن اشكال يہ ہے كہ: اگر ايك ہى رات ميں دو بار وتر پڑھيں جائيں تو مقتدى كيا كرے ؟

ہم يہ كہيں گے كہ: اگر آپ دوسرے امام كے ساتھ تہجد ادا كرنا چاہتے ہوں اور پہلا امام وتر پڑھائے تو آپ ايك ركعت اور پڑھ ليں تا كہ دو بن جائيں، اور اگر آپ رات كے آخر ميں تہجد نہيں پڑھنا چاہتے تو پہلےامام كے ساتھ وتر ادا كر ليں، پھر اگر آپ كے مقدر ميں تہجد ہو اور آپ دوسرے امام كے ساتھ ادا كريں تو دوسرے امام كے ساتھ وتر كو دو بنا ليں " انتہى ملخصا.

ديكھيں: مجموع فتاوى و رسائل ابن عثيمين ( 13 / 436 ).

تراويح ميں سنت گيارہ ركعات ہى ہيں جيسا كہ شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كى كلام ميں بيان كيا گيا ہے، اس ليےامام اور مقتدى دونوں كو سنت پر عمل كرنا چاہيے، اور يہاں اس مسجد والوں كوچاہيے كہ وہ سنت پرعمل كريں تاكہ نمازيوں ميں اختلاف نہ پيدا ہو، يا پھر وہ ثواب سے محروم نہ ہو جائيں، اگر انہيں كام نہ ہوتا تو وہ اجروثواب كے حريص تھے.

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہم سب كے اعمال صالحہ قبول فرمائے اور اپنى اطاعت پر معاونت كرے.

نماز تراویح ادا کرنے کے بعد صرف وتر تھوڑی دیر سو لینے کے بعد سحری ٹائم ادا کرنا درست عمل ہے ۔؟

جی ہاں، وتر امام کے ساتھ بھی ادا کر سکتے ہیں اور سحری کے وقت بھی ادا کر سکتے ہیں۔

 ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ