سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(38) مساجد کےافتتاح کے لئے مجلسوں کااہتمام

  • 8297
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-26
  • مشاہدات : 516

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں جب کوئی نئی مسجد بنائی جاتی ہے۔اور اس میں نماز شروع کرنے کا پروگرام بنتا ہے۔تو اس کے لئے مختلف شہروں سے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔تا کہ وہ افتتاح مسجد کی تقریب میں شریک ہوں۔تو اس مقصد کے لئے لوگوں کے آنے کاکیا شرعی حکم ہے ؟ کیا حدیث:

لا تشدالرحال الا الي ثلاثه مساجد (صحیح بخاری کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ باب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ ح :1189)

''تین مساجد کے علاوہ کسی طرف (تبرک کی غرض سے) سواریاں تیار کرکے (سامان سفر باندھ کے) مت جایا جائے۔''

کی روشنی میں  یہ فعل حرام ہوگا۔اوراگر ایس کرنا جائز ہے۔تو جواز کی دلیل کیا ہے۔؟کیا وہ حدیث  جس میں یہ ہے کہ بعض صحابہرضوان اللہ عنہم اجمعین  نے نبی کریمﷺ کو دعوت دی۔کہ اآپ ان کے گھر تشریف لاکر ایک کونے میں نماز پڑھیں تاکہ وہ اسے جائےنماز قراردے لیں۔'' اس عمل کے جواز کی دلیل بن سکتی ہے۔؟اور کیا اس سلسلے میں قصہ مسجد ضرار سے یہ استدلال کیاجاسکتا ہے۔کہ اللہ  تعالیٰ ٰ نے آپ کو وہاں جانے کے محض قصدارادہ سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس لئے منع کیا کہ اس مسجد کو ضرر او رکفر کےلئے بنایا گیا تھا۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مساجد کا افتتاح ان میں نماز پڑھنے اور زکر الٰہی تلاوت قرآن مجید تسبیح وتحمید وتہلیل اور علوم شرعیہ کی تعلیم جیسے امور سے ہونا چاہیے۔جو مسجد کے لئے باعث عظمت ورفعت شان ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے۔

﴿فى بُيوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُر‌فَعَ وَيُذكَرَ‌ فيهَا اسمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ ﴿٣٦رِ‌جالٌ لا تُلهيهِم تِجـرَ‌ةٌ وَلا بَيعٌ عَن ذِكرِ‌ اللَّهِ وَإِقامِ الصَّلوةِ وَإيتاءِ الزَّكوةِ يَخافونَ يَومًا تَتَقَلَّبُ فيهِ القُلوبُ وَالأَبصـرُ‌ ﴿٣٧ لِيَجزِيَهُمُ اللَّهُ أَحسَنَ ما عَمِلوا وَيَزيدَهُم مِن فَضلِهِ وَاللَّهُ يَر‌زُقُ مَن يَشاءُ بِغَيرِ‌ حِسابٍ ﴿٣٨﴾... سورة النور

''(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے)جن کے بارے میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔ کہ بلند کیے جایئں اور وہاں اللہ کا نام زکر کیا جائے۔(اور ) ان میں صبح وشام اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ایسے لوگ جن کو اللہ کے زکر اور نماز پڑھنے اور ذکواۃ دینے سے نہ سودا  گری غافل کرتی ہے۔نہ خریدوفروخت وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جایئں گے اور آنکھیں (اوپر چڑھ جایئں گی)  ڈرتے ہیں تاکہ اللہ ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھابدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے۔اور جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے۔''

اس طرح کے وعظ ونصیحت اور مشورے کے ساتھ رسول للہﷺ مساجد کو آبا فرمایاکرتے تھے۔آپ ﷺ کے بعد خلفاء  راشدینرضوان اللہ عنہم اجمعین  تمام صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  اور ائمہ ہدایت کابھی یہی طرزعمل رہا  اور سراسر خیر وبرکت اسی میں ہے۔ کے ان پاکباز لوگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مساجد کے افتتاح کے لئے انہی کی پیروی کریں۔اور مسجدوں کو عبادات اور ان کے ہم معنی شعائر اسلام سے آبادشاد رکھیں۔نبی کریمﷺ سے او انکی پیروی کرنے والےائمہ ہدایٰ سے قطعا یہ ثابت نہیں کہ کبھی انہوں نے افتتاح مسجد کے موقع پر اس قسم کی  تقریب کا اہتمام کیاہو۔اور لوگوں کو اس میں شرکت کی دعو ت دی ہو۔جس طرح آجکل لوگوں کودعوت دی جاتی ہے۔ اور وہ مسجد کی تعمیر کی  تکمیل ک موقع پر مختلف شہروں سے آکر  تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔اگر یہ عمل قابل ستائش ہوتا تو سب سے پہلے  رسول اللہ ﷺ ا س کی  طرف سبقت فرماتے۔ امت کے لئے اسے مسنون قرار دے  دیتے۔اور آپﷺ کے بعد خلفاء راشدین رضوان اللہ عنہم اجمعین  نے اور ائمہ ہدیٰ اس کی پیروی کرتے۔اور اگر ایسا ہوا ہوتا تو وہ یقیناً منقول بھی ہوتا۔ لہذا اس طرح کی محفلوں کا اہتمام درست نہیں۔ اس طرح کی محفل میں شرکت کی دعوت کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ اور نہ مالی امداد کی صور ت میں ان محفلوں کے انعقاد میں تعاون کرنا چاہیے۔سراسر خیر وبھلائی اتباع سلف میں اور سراسر شر وبرائی     ابتداع خلف میں ہے۔یہ جو حدیث ہے کہ بعض صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی۔کے آپ ان کے گھر تشریف لائیں۔ اور ان کے مکان میں ایک حصہ میں نماز پڑھیں۔ تاکہ وہ اسے اپنے نوافل وغیر ہ کےلئے جائے نماز  بنا لیں۔تو یہ مروجہ تقریب افتتاح مسجد کی قطعا دلیل نہیں بن سکتی۔کیونکہ آپﷺ کو  تقریب میں  شرکت کے لئے نہیں بلکہ نماز کی عوت دی گئی  تھی۔آپ نے اس نماز کے لئے سفر بھی نہیں کیا۔اور  پھر سے محفل میں شرکت یا  اس مسجد میں نماز کے لئے سفر اس حدیث کے عموم نہی میں داخل ہے۔جس میں آپ نے تین معروف مساجد کے علاوہ دیگر مسجدوں کی طرف شد ر حال (رخت سفر تیار) کرکے جانے سے منع فرمایا ہے۔لہذا اس نوع ایجاد عادت سے اجتناب کرنا چاہیے۔اور مسجدوں کے معاملات میں بھی اسی عمل پر اکتفاء کرنا چاہیے۔ جو رسول اللہﷺ کے عہد اور آپ کے تابعدار ائمہ ہدیٰ کے دور میں تھا۔(وصلی اللہ وسلم علی عبدہ ورسولہ محمد وآلہ وصحبہ)۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ