سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(35) ارشاد باری تعالیٰ ٰ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا﴾کے معنی

  • 8294
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-26
  • مشاہدات : 991

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے سورہ مریم کی آیت۷۲،۷۱ کو پڑھا ہے جو کہ حسب زیل ہے۔

﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَ‌بِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ﴿٧١﴾ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ‌ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾... سورة مريم

’’اور تم میں سے کوئی(شخص)نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا،یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔‘‘

میں ان آیات کریمہ خاص طور پر ان میں مذکور جہنم میں وار ہونے کے معنی معلوم کرنا چاہتا ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہﷺکی صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اس ورود سے مراد اس پل صراط سے گزرنا ہے جسے اللہ تعالیٰ ٰ نے جہنم کی چھت پر نصب فرمایا ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ ٰ ہمیں اور سب مسلمانوں کو جہنم سے بچائے۔اور جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس سے گزر جائیں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ