سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(33) مشرک کی طرف سے حج اور اس کے لئے مغفرت کی دعاء

  • 8292
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-26
  • مشاہدات : 1694

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص جس نے زندگی بھر کبھی نماز پڑھی نہ  روزہ رکھا اور جن پتھر درخت اور بتوں کے نام پر ذبح کرتا رہا اور  اسی حالت میں مرگیا تو کیا اس کے کسی رشتہ دار کے لئے اس کی طرف سے حج کرنا یا اسکے لئے مغفرت کی دعاء کرنا جائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص سوا ل میں مذکور حالت کے مطابق مرا ہو اسے شرک اکبرکا مرتکب سمجھا جائے گا۔اور ایسے شخص کی طرف سے حج کرنا یا اس کے لئے بخشش کی دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:

﴿ما كانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذينَ ءامَنوا أَن يَستَغفِر‌وا لِلمُشرِ‌كينَ وَلَو كانوا أُولى قُر‌بى مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُم أَصحـبُ الجَحيمِ ﴿١١٣﴾...سورۃ التوبۃ

’’نبی(ﷺ)اورمومنوں کو یہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ مشرکوں کے لئے اس بات کے واضح ہوجانے کے بعد کہ وہ دوزخی ہیں ،بخشش کی دعا کریں اگرچہ وہ (مشرک ،مومنوں اورنبیﷺ)کےقرابت دارہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

اور حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«استاذنت ربي ان ازور قبر امي فاذن لي واستازنه ان استغفرلنا لها فلم باذن لي» (صحیح مسلم۔کتاب الجنائز باب الستیذان النبی ربہ فی زیارۃ قبر امہ ح:٢٢٥٨’٢٢٥٩)

'' میں نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کے لئے اللہ تعالیٰ ٰ سے اجازت طلب کی تو اس نے مجھے اجازت عطا فرمادی اور میں نے مغفرت کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اس کی اجازت نہ دی۔''

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ