سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(30) خلع میں حق مہر کی واپسی

  • 8289
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-23
  • مشاہدات : 942

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک جاننے والے ہیں جو راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ ان کے بھائی کی شادی چند ماہ قبل ہوئی تھی اور انہوں نے شادی کے بعد کچھ زمین اپنی بیوی کے نام کی تھی۔ اب ان کی بیوی ان سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اور لڑکے والے وہ زمین لڑکی کو نہیں دینا چاہتے۔ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے کہ اگر خاوند حق مہر کے علاوہ اگر کوئی جائیداد بیوی کے نام کر دے تو طلاق کے وقت وہ اس سے واپس لے سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر عورت اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور وہ اس سے طلاق کا مطالبہ کردیتی ہے تو اس صورت میں اس پر فرض ہے کہ وہ مہر سمیت خاوندکا سارا مال اسے واپس کردے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿الطَّلـقُ مَرَّ‌تانِ فَإِمساكٌ بِمَعر‌وفٍ أَو تَسر‌يحٌ بِإِحسـنٍ وَلا يَحِلُّ لَكُم أَن تَأخُذوا مِمّا ءاتَيتُموهُنَّ شَيـًٔا إِلّا أَن يَخافا أَلّا يُقيما حُدودَ اللَّهِ فَإِن خِفتُم أَلّا يُقيما حُدودَ اللَّهِ فَلا جُناحَ عَلَيهِما فيمَا افتَدَت بِهِ تِلكَ حُدودُ اللَّهِ فَلا تَعتَدوها وَمَن يَتَعَدَّ حُدودَ اللَّهِ فَأُولـئِكَ هُمُ الظّـلِمونَ ﴿٢٢٩﴾... سورة البقرة

طلاق [رجعی ] دو مرتبہ ہے ،اس کے بعد یاتو نیک نیتی کے ساتھ بیوی کو روک رکھو ، یا بھلائی کے ساتھ اسے چھوڑ دو ،اس صورت میں تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ واپس لو، الاّیہ کہ ڈریں کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے ۔پھر اگر تم حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکنے سے ڈرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ عورت فدیہ دے کر [طلاق حاصل کرلے ]،یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو شخص حدود اللہ کو تجاوز کرے گا وہ لوگ ظالم ہیں ۔

سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ،میں اس کے دین واخلاق پر کوئی حرف نہیں رکھتی ، مگر مجھے اسلام میں کفر کا اندیشہ ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شکایت سنی تو فرمایا: اس کا باغ واپس کرتی ہو؟ اس نے مان لیا تو آپ نے ثابت کو حکم دیا کہ باغ لے لو اور اسے ایک طلاق دے کر الگ کردو۔ [بخاری ۔الطلاق۔باب :5273]

اگر عورت خلع کے عوض مہر سے زیادہ دینے کی پیش کش کردے تو مرد کیلئے وہ لینا حرام نہیں ہے بلکہ حلال ہے ،اسی لئے قرآن مجید نے آیت خلع میں فدیے کی حد بندی نہیں کی ،اور سورۃ النساء کی آیت نمبر ۴ میں بھی عورت کی جانب سے دیا گیا مال لینا حلال رکھا ہے ۔

امام احمد بن حنبل ، امام اسحاق ، شعبی ، زہری ، حسن ، عطاء اور امام طاؤس کا مؤقف ہے کہ خاوند خلع کے عوض مہر سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کرسکتا ۔[فقہ الحدیث :۲/۱۹۴]لیکن اگر عورت اپنی خوشی سے مہر سے زیادہ کی پیش کش کرے تو سورۃ النساء کی آیت نمبر ۴ کی رو سے حلال اور جائز ہوگا، ممنوع نہیں ۔اور بعض علماء کا کا مؤقف يه ہےکہ خاوند کی طرف سے مہر سے زیادہ کا مطالبہ قانوناً جائز ہے لیکن اخلاقاً اچھا نہیں ہے ۔لیکن یہ بات طے ہے کہ خلع کی صورت میں مہر کا مال خاوند کا ہے الاّ یہ کہ وہ سب چھوڑ دے یا اس سے کم پر آمادہ ہوجائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ