سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(29) تنخواہ پر زکوۃ

  • 8288
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-21
  • مشاہدات : 727

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک سرکاری سکول میں عربی کا استاد ہوں میری تنخوہ تقریبا 30000روپے ہے میری یہ تنخواہ مہینے بھر کے اخراجات کیلئے کافی ہوتی ہے لیکن مہینہ گزرنے کے بعد میرے پاس کوئی رقم باقی نہیں رہتی اسی طرح سال گزر جاتا ہے اور میرے پاس کچھ رقم نہیں ہوتا وہ گھریلو ضروریا ت پر خرچ ہوتے ہیں میں دل میں پریشان رہتا ہوں کہ میرے پاس اتنا مال نہیں کہ سال گزرنے پر اس کی زکوٰۃ ادا کروں دوسری طرف ایک زمیندار جو کہ بمشکل دس من گندم حاصل کرتا ہے جس کی قیمت 15000روپے ہوتی ہے یہ اس کی چھ ماہ کی آمدن ہے اور وہ اس سے ایک من عشر دیتا ہے جس کی آمدن بمشکل30000 روپے سالانہ ہے وہ تو زکوٰۃ ادا کرے اور ہم 360000روپے سالانہ کماتے ہیں لیکن سال کے اختتام پر رقم نہ ہونے کی صورت میں ہم زکوٰۃ سے مستثنٰی ہیں ۔ کیا ہم اس میں اللہ تعالٰی کے ہاں جواب دہ نہیں ہیں ۔؟ ہماری زکوٰۃ کی کیا صورت ہو سکتی ہے، اگر تنخواہ دار طبقہ جوکہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا آمدن والا طبقہ ہے اگر زکوٰۃ ادا کریں تو غریب طبقہ کیلئے بہت فائدہ ہوگا جزاکم اللہ خیرا۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت نے زکوۃ کا نصاب،مقدار اور مصارف سب کچھ تفصیل سے بیان کر دیا ہے،اس میں ہم اپنی مرضی سے تبدیلی نہیں کر سکتے-

صورت مسؤلہ میں آپ پر کوئی زکوۃ نہیں ہے،کیونکہ زکوۃ کی وجوبیت کے لئے نصاب اور سال کا مکمل ہونا شرط ہے،اگر آپ کے پاس نصاب جتنی رقم بچ جائے اور وہ آپ کے پاس موجود ہو ،اور اس پر ایک سال گزر جائے ،تو آپ پر زکوۃ واجب ہے،بصورت دیگراگر آپ اسے خرچ کر لیتے ہیں اور آپ کے پاس کچھ نہیں بچتا تو پھر آپ پر زکوۃ نہیں ہے۔ آپ نفلی صدقات وخیرات جتنا مرضی کر لیا کریں،اس کا آپ کو ثواب ملے گا،اور شریعت میں نفلی صدقات کے بھی بہت سارے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔

نیز یاد رہے کہ زمین کی آمدنی پر زکوۃ پانچ وسق (تقریبا بیس من)سے شروع ہوتی ہے،اس سے کم پر نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ